موبائل فون آج دنیا بھر میں روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں، تاہم ان سے خارج ہونے والی ریڈی ایشن کے ممکنہ مضر اثرات پر بحث اب بھی جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق موبائل فون ریڈیو فریکوئنسی شعاعیں خارج کرتے ہیں جو نان آئنائزنگ ریڈی ایشن کہلاتی ہیں اور ان میں انسانی ڈی این اے کو براہِ راست نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں ہوتی۔
عالمی ادارۂ صحت اور دیگر بین الاقوامی سائنسی اداروں کا کہنا ہے کہ اب تک ایسی کوئی مضبوط سائنسی شہادت سامنے نہیں آئی جو موبائل فون کے عام استعمال اور کینسر کے درمیان واضح تعلق ثابت کر سکے۔ تاہم بعض تحقیقات میں طویل اور بہت زیادہ استعمال کرنے والوں میں دماغی رسولیوں کے خطرات میں معمولی اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اسی بنیاد پر 2011 میں عالمی ادارۂ صحت کے ذیلی ادارے نے موبائل فون ریڈی ایشن کو “ممکنہ طور پر سرطان پیدا کرنے والے عوامل” میں شامل کیا تھا، تاہم ماہرین کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ موبائل فون یقینی طور پر کینسر کا سبب بنتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ موبائل فون کے زیادہ استعمال سے نیند میں خلل، ذہنی دباؤ، آنکھوں کی تھکن اور گردن کے مسائل جیسے اثرات زیادہ نمایاں ہیں۔ احتیاط کے طور پر اسپیکر فون یا ائیر فون کا استعمال اور غیر ضروری طویل کالز سے گریز مفید قرار دیا جاتا ہے۔