افریقہ کے مختلف ممالک میں ہر سال 25 مئی کو منایا جانے والا ‘افریقہ ڈے’ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ 1963 میں ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں افریقی رہنماؤں نے تنظیم اتحادِ افریقہ قائم کی تھی، جسے براعظم کی آزادی اور خودمختاری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
63 سال گزرنے کے باوجود اب بھی یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا افریقہ واقعی مکمل طور پر آزاد ہو چکا ہے یا آزادی کا مطلب صرف سیاسی خودمختاری تک محدود رہ گیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بڑی عمر کے لوگ اس دن کو ایک تاریخی فتح کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ وہ وقت تھا جب افریقہ نے نوآبادیاتی نظام اور سیاسی غلامی کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کی۔ تاہم آج کئی افراد کا خیال ہے کہ اصل آزادی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم نے الجزیرپ کو بتایا کہ سیاسی آزادی کو ہمیشہ محفوظ رکھنا ضروری ہے، لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے پوتے پوتیاں آج مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جو آزادی کے خواب سے مختلف حقیقت ہے۔
آج آزادی کا مفہوم بدل چکا ہے۔ اب بات صرف جھنڈوں، قومی ترانوں اور سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ معیشت، وسائل اور مالی فیصلوں پر کس کا کنٹرول ہے۔
بہت سے افریقی ممالک بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، جس کے باعث حکومتوں کی مالی خودمختاری محدود ہو رہی ہے۔ اکثر فیصلے بین الاقوامی مالی اداروں کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں کیے جاتے ہیں، جس سے پالیسی سازی میں خودمختاری کم ہوتی جا رہی ہے۔
اسی دوران براعظم کی حکومتیں مختلف عالمی طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جن میں مغربی ممالک، چین اور ابھرتے ہوئے اقتصادی اتحاد شامل ہیں، جو سرمایہ کاری اور قرض کے ساتھ اپنی شرائط بھی لاتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اصل آزادی تبھی ممکن ہے جب افریقہ صرف خام مال پیدا کرنے والا خطہ نہ رہے بلکہ اپنی پیداوار کو خود استعمال بھی کرے اور اپنی صنعتوں کو مضبوط بنائے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی نئے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ موبائل پیمنٹ سسٹمز اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، مگر اس ترقی کے باوجود ڈیٹا اور انفراسٹرکچر پر زیادہ تر کنٹرول بیرونی کمپنیوں کے پاس ہے۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر افریقہ کا ڈیٹا باہر جا کر پروسیس ہوتا ہے اور پھر اسی خطے کو واپس بیچا جاتا ہے تو یہ نوآبادیاتی نظام کی ایک نئی شکل ہے، جسے ڈیجیٹل انحصار کہا جا سکتا ہے۔
نوجوان نسل کے لیے آزادی کا مطلب اب مختلف ہے۔ ان کے مطابق اصل آزادی وہ ہے جس میں روزگار، تعلیم، شفاف حکمرانی اور معاشی مواقع موجود ہوں۔
ایک نوجوان سافٹ ویئر ڈویلپر کا کہنا ہے کہ آج کے مسائل تاریخی نعروں سے حل نہیں ہوتے بلکہ نظام میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کرپشن، مہنگائی اور بدانتظامی اصل رکاوٹیں ہیں۔
مجموعی طور پر افریقہ ڈے اب صرف جشن نہیں بلکہ ایک بڑا سوال بن چکا ہے کہ کیا سیاسی آزادی واقعی معاشی اور سماجی آزادی میں بدل سکی ہے یا نہیں۔
بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک افریقہ کے وسائل، محنت اور ٹیکنالوجی کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچتا، آزادی کا سفر مکمل نہیں سمجھا جا سکتا۔
ایک بزرگ شہری کے مطابق جھنڈے تو اپنے ہیں، مگر معیشت کی ڈوریں اب بھی کہیں اور سے ہلائی جا رہی ہیں۔