ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے 6 نومبر کو قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں عقابہ عمل (Aqaba Process) کے تحت مصنوعی ذہانت کے تحفظ سے متعلق وسطی ایشیائی ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں علاقائی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے نئے خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور آذربائیجان و کرغزستان کے اعلیٰ نمائندوں سمیت دیگر غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی۔ شرکا نے انتہا پسندی کی روک تھام، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے نمٹنے اور نوجوانوں کو شدت پسندی سے محفوظ رکھنے کے لیے عملی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
صدر شوکت مرزیایوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی جہاں انسانیت کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، وہیں سکیورٹی کے نئے چیلنجز بھی سامنے لا رہی ہے۔ انہوں نے اس تناظر میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور انسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کرنے کو بنیادی اہمیت دی۔
انہوں نے ’’انسانیت کے فائدے کے لیے ڈیجیٹل ترقی‘‘ کے عنوان سے ایک اقدام پیش کیا، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کو علم کے فروغ، باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنے اور انسانی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی سے متعلق مکالمے کی بھی حمایت کی۔
مرزیایوف نے وسطی ایشیائی ممالک کی معاونت کے لیے ازبکستان میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد دہشت گردی (UNOCT) کا علاقائی دفتر قائم کرنے کی پیشکش بھی کی۔ اس دفتر کے ذریعے دہشت گردانہ مواد کی نشاندہی، دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام، ماہرین کی تربیت اور مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال میں علاقائی ممالک کی مدد کی جا سکے گی۔
ازبک صدر نے تاشقند میں اسلامی تہذیب کے مرکز کے تحت ’’ڈیجیٹل دور میں جہالت کے خلاف آگاہی‘‘ کے نام سے ایک بین الاقوامی پروگرام شروع کرنے کی تجویز بھی دی۔ اس پروگرام میں کثیراللسانی علمی مواد کی تیاری، مذہبی رہنماؤں کی ڈیجیٹل تربیت، نوجوان محققین کی معاونت اور اسلام کی انسانی اقدار کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا مستقبل صرف تکنیکی ترقی سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی وابستہ ہے کہ اسے کن مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق نئی ٹیکنالوجی کو خطرے کے بجائے امن، سلامتی اور انسانی ترقی کا ذریعہ بنانا مشترکہ ہدف ہونا چاہیے۔