گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں تالبان کے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد 26 لاکھ سے زائد لڑکیاں اعلی تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں، جبکہ یونیورسٹیوں میں خواتین کے داخلے کی تعداد صفر ہے۔آئیے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کا یہ دعویٰ کس حد تک درست ہے ۔
سب سے پہلے یہ جاننا اہم ہے کہ افغانستان کی ٹوٹل آبادی کتنی ہے اور اس میں خواتین کی تعداد کیا ہے ۔بین الاقوامی اداروں کے مطابق 2025 میں افغانستان کی مجموعی آبادی تقریباً 4 کروڑ 38 لاکھ تھی۔ ان میں خواتین اور لڑکیوں کی تعداد 2 کروڑ 17 لاکھ ہے، یعنی مجموعی آبادی کا لگ بھگ نصف حصہ۔اب زرا ان بچیوں کی بارے میں جانئے جو سکول ، کالج یا یونیورسٹی جانے کی عمر میں ہیں۔افغانستان کی آبادی کا تقریباً 24 فیصد حصہ 10 سے 19 سال کی عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس تناسب سے اس عمر کی لڑکیوں کی تعداد تقریباً 50 سے 52 لاکھ بنتی ہے۔یعنی اقوام متحدہ کہہ رہی ہے کہ 52 لاکھ لڑکیوں میں سے 26 لاکھ لڑکیاں اعلی تعلیم سے محروم ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ باقی 26 لاکھ کو تعلیم کی سہولت موجود ہے ۔
اب آئیے اصل سوال کی طرف،کیا افغانستان میں لڑکیوں کو تعلیم بالکل نہیں دی جاتی؟اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔اصل حقیقت حال یہ ہے کہ افغانستان میں لڑکیوں کو پہلی سے چھٹی کلاس تک باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے۔ ان کے لیے الگ اسکول بھی موجود ہیں اور وہ ان میں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔تاہم چھٹی جماعت مکمل کرنے کے بعد صورتحال بدل جاتی ہے۔افغان حکومت نے لڑکیوں کی ساتویں سے بارہویں جماعت تک باقاعدہ تعلیم پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
یہاں ایک اور بات کی وضاحت بہت ضروری ہے۔افغانستان میں لڑکیوں کے لیے دینی مدارس موجود ہیں، جہاں بعض بڑی عمر کی لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ان مدارس میں بنیادی طور پر قرآن، حدیث اور دینی علوم پڑھائے جاتے ہیں، جبکہ بعض اداروں میں دوسرے مضامین یعنی جدید علوم بھی شامل ہیں ۔اسی طرح بعض مقامات پر این جی اوز اور مقامی کمیونٹیز آن لائن ذرائع سے لڑکیوں کو تعلیم فراہم کر رہی ہیں ۔یونیسف اور یونیسکو کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ اکتوبر تک تقریباً 5,300 کمیونٹی تعلیمی کلاسیں چل رہی تھیں، جن میں ایک لاکھ 62 ہزار کے قریب بچے زیرتعلیم تھے اور ان میں 64 فیصد لڑکیاں تھیں۔
اگر اقوام متحدہ نے یہ قرار دیا ہے کہ افغانستان میں 26 لاکھ سے زائد لڑکیاں اعلی تعلیم سے محروم ہیں، تو اس کا یہ مطلب ہرگزنہیں کہ ان میں سے کسی لڑکی کو کہیں بھی کوئی تعلیم نہیں مل رہی۔ اعداد و شمار کے مطابق بہت سارے دیگر ذرائع سے افغانستان میں لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں ۔تاہم یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر افغانستان میں لڑکیوں کے لیے الگ سکول موجود ہیں، دینی مدارس میں بھی دنیاوی تعلیم دی جا رہی ہے، تو پھر ساتویں کلاس سے آگے اس سلسلہ کو کیوں روک دیا گیا ہے ؟ ۔جس طرح ساتویں کلاس تک لڑکیوں کیلئے الگ تعلیمی ادارے موجود ہیں اسی طرح اس سے آگے جدید علوم پڑھانے کے لیے بھی الگ تعلیمی ادارے قائم کئے جاسکتے ہیں۔ میرے خیال میں اس معاملے کو محض افغان حکومت کی حمایت یا مخالفت کے زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے، یہ افغانستان کی لاکھوں بیٹیوں کے مستقبل کا سوال ہے۔
میری ناقص رائے میں ہمیں یہ رائے قائم نہیں کرناچاہئے کہ افغانستان میں خواتین کو سرے سے کوئی تعلیم ہی نہیں دی جا رہی اور نہ ہی یہ کہنا درست ہوگا کہ وہاں خواتین کی تعلیم کا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔حقیقت ان دونوں دعووں کے درمیان موجود ہے اور ہمیں اسے دیانت داری سے دیکھنا چاہیے۔