جنسی تشدد؛ ہماری مشترکہ ذمہ داری کیا ہے؟

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی تشدد اور زیادتی کے واقعات نے نہ صرف عوامی سطح پر شدید تشویش پیدا کی ہے بلکہ پورے معاشرے کو ایک مشکل سوال کے سامنے بھی لا کھڑا کیا ہے کہ آخر اس بڑھتے ہوئے مسئلے کا حل کیا ہے؟ آئے روز سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات میں ایسے افسوسناک واقعات سامنے آتے ہیں جن میں معصوم بچے، بچیاں، خواتین اور بعض اوقات مرد بھی جنسی تشدد کا شکار بنتے ہیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا نے ایسے واقعات کو منظر عام پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کی حفاظت، والدین کی آگاہی، قانون کے نفاذ اور اخلاقی تربیت کے حوالے سے ابھی بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مسئلہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نہیں بلکہ حکومت، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں، والدین، میڈیا اور معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس ناسور کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

حکومت کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ جنسی تشدد کے مقدمات میں فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ متاثرہ خاندان انصاف کے حصول کے لیے طویل عدالتی کارروائیوں، سماجی دباؤ اور بااثر افراد کے اثرورسوخ کا سامنا کرتے ہیں جس کے باعث کئی متاثرین خاموش رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ خصوصی عدالتیں قائم ہوں، پولیس کی تربیت بہتر بنائی جائے، فرانزک نظام کو مزید مضبوط کیا جائے اور ایسے مقدمات کا فیصلہ مقررہ مدت کے اندر کیا جائے تاکہ مجرموں کو بروقت سزا ملے اور معاشرے میں قانون کی بالادستی کا اعتماد بحال ہو۔ سزا کا خوف ہی ایسے جرائم کی روک تھام میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس کے ساتھ حکومت کو بچوں کے تحفظ کے لیے جامع قومی پالیسی ترتیب دینی چاہیے جس کے تحت تمام سرکاری اور نجی اداروں میں “چائلڈ پروٹیکشن پالیسی” پر لازمی عمل درآمد ہو۔ تعلیمی اداروں میں بچوں کو ان کی عمر کے مطابق ذاتی تحفظ، محفوظ اور غیر محفوظ لمس ، ہنگامی صورت حال میں مدد حاصل کرنے کے طریقے اور اعتماد کے ساتھ اپنی بات بیان کرنے کی تربیت دی جائے۔ اس موضوع کو شرم یا ممنوع سمجھنے کے بجائے احتیاط اور حفاظت کے نقطہ نظر سے پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
والدین کا کردار اس پورے مسئلے میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ اکثر والدین بچوں کی جسمانی ضروریات کا تو خیال رکھتے ہیں لیکن ان کی ذہنی، جذباتی اور حفاظتی تربیت پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں تاکہ بچے بلا خوف و جھجھک ہر مسئلہ اپنے والدین سے بیان کر سکیں۔ اگر بچہ کسی شخص سے ملنے سے گھبرائے، اچانک رویے میں تبدیلی آئے، تنہائی پسند ہو جائے، ڈراؤنے خواب دیکھنے لگے یا غیر معمولی خاموشی اختیار کر لے تو والدین کو ان علامات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ بچوں کی بات کو نظر انداز کرنے یا انہیں ڈانٹنے کے بجائے تحمل سے سننا اور ان کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔

آج کے دور میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے نئی سہولتوں کے ساتھ نئے خطرات بھی پیدا کیے ہیں۔ بہت سے جنسی جرائم آن لائن دوستی، بلیک میلنگ، جعلی شناخت اور سائبر استحصال کے ذریعے شروع ہوتے ہیں۔ اس لیے والدین کو بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر مناسب نگرانی رکھنی چاہیے، انہیں اجنبی افراد سے رابطے کے خطرات سے آگاہ کرنا چاہیے اور یہ سکھانا چاہیے کہ کسی بھی غیر مناسب پیغام، تصویر یا ویڈیو کی صورت میں فوراً کسی قابل اعتماد بڑے کو اطلاع دیں۔ نگرانی کا مقصد بچوں کی نجی زندگی میں غیر ضروری مداخلت نہیں بلکہ ان کی حفاظت ہونا چاہیے۔

معاشرے کو بھی اپنی اجتماعی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں متاثرہ فرد کو ہی سوالات اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ اصل مجرم کئی مرتبہ سماجی یا خاندانی دباؤ کی وجہ سے بچ نکلتا ہے۔ اس رویے کو تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔ کسی بھی متاثرہ بچے یا خاتون کو الزام دینے کے بجائے اس کی عزت، رازداری اور نفسیاتی بحالی کو ترجیح دینی چاہیے۔ اگر معاشرہ متاثرین کا ساتھ دے گا تو مزید لوگ بھی خاموشی توڑ کر انصاف کے لیے سامنے آ سکیں گے۔

علمائے کرام، اساتذہ، سماجی کارکن اور میڈیا بھی اس مسئلے کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جمعہ کے خطبات، تعلیمی سیمینارز، آگاہی مہمات، ٹی وی پروگرامز اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے والدین اور نوجوانوں میں شعور بیدار کیا جا سکتا ہے کہ بچوں کا تحفظ صرف ایک خاندانی معاملہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے واقعات کی رپورٹنگ میں متاثرین کی شناخت اور عزتِ نفس کا مکمل خیال رکھے اور سنسنی پھیلانے کے بجائے ذمہ دار صحافت کو فروغ دے۔

تعلیمی اداروں میں طلبہ کے لیے کونسلنگ سسٹم، شکایتی مراکز اور تربیت یافتہ ماہرینِ نفسیات کی موجودگی بھی انتہائی ضروری ہے۔ بہت سے بچے خوف، شرمندگی یا دھمکیوں کی وجہ سے اپنی تکلیف کسی سے بیان نہیں کر پاتے۔ اگر تعلیمی ادارے محفوظ ماحول فراہم کریں تو بروقت مدد ممکن ہو سکتی ہے۔ اسی طرح یتیم خانوں، مدرسوں، ہاسٹلوں، کھیلوں کی اکیڈمیوں اور دیگر رہائشی اداروں میں بھی سخت نگرانی، شفاف نظام اور بچوں کے تحفظ کے واضح ضابطے نافذ کیے جانے چاہییں۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ جنسی تشدد کا تعلق صرف غربت، تعلیم یا کسی ایک طبقے سے نہیں بلکہ یہ مسئلہ معاشرے کے مختلف طبقات میں موجود ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہر خاندان کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ بچوں کو یہ ضرور سکھایا جائے کہ ان کے جسم پر ان کا حق ہے، کوئی بھی شخص خواہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، انہیں غیر مناسب طریقے سے چھونے کا اختیار نہیں رکھتا، اور اگر کبھی ایسا ہو تو فوراً کسی قابل اعتماد بڑے کو اطلاع دینا ان کا حق اور ذمہ داری ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ، میڈیا، والدین، اساتذہ اور مذہبی و سماجی قیادت کے درمیان مؤثر تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صرف بیانات، احتجاج یا سوشل میڈیا پر وقتی غم و غصہ اس مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے رویوں، تربیت، قانون کے نفاذ اور سماجی سوچ میں مثبت تبدیلی لائیں۔ جب تک مجرم کو یقینی سزا، متاثرہ فرد کو مکمل تحفظ، والدین کو مناسب آگاہی اور بچوں کو بروقت تعلیم و رہنمائی نہیں ملے گی، اس مسئلے پر مکمل قابو پانا مشکل رہے گا۔

یہ بات واضح ہے کہ جنسی تشدد کے خلاف جنگ کسی ایک ادارے یا فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت مضبوط قوانین اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائے، والدین اپنے بچوں کے ساتھ اعتماد اور محبت کا رشتہ قائم کریں، تعلیمی ادارے حفاظتی تعلیم کو فروغ دیں، میڈیا ذمہ دارانہ کردار ادا کرے اور معاشرہ متاثرین کا ساتھ دے، تو یقیناً ایسے جرائم میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ایک محفوظ پاکستان اسی وقت ممکن ہے جب ہر بچہ، ہر خاتون اور ہر شہری خود کو خوف سے آزاد، باعزت اور محفوظ محسوس کرے، کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کے کمزور اور معصوم افراد کا تحفظ ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں