بنگلادیشی وزیراعظم کی چینی صدر سے ملاقات، تجارتی خسارہ کم کرنے اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تیز کرنے کا مطالبہ

بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے اپنے چار روزہ سرکاری دورۂ چین کے دوران بیجنگ میں گریٹ ہال آف دی پیپلز میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی ہے، ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر بات چیت کی گئی۔

رائٹرز کے مطابق، بنگلادیش نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو کم کرنے، بنگلہ دیشی مصنوعات کی چینی منڈی تک رسائی بڑھانے اور اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنے کی درخواست کی۔

وزیراعظم طارق رحمان نے کہا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی توازن بہتر بنانا ہے تو چین کو بنگلہ دیش سے درآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے خاص طور پر آم، کٹھل، امرود، آبی مصنوعات، خام چمڑا اور دواسازی کی مصنوعات کی چینی منڈی تک رسائی بڑھانے کی درخواست کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ بنگلہ دیش کو اپنے بڑے ترقیاتی منصوبوں، صنعتی اداروں کی جدیدکاری اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے بھی چین کے تعاون کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر چینی صدر شی جن پنگ نے یقین دہانی کرائی کہ چین بنگلہ دیش سے مزید مصنوعات درآمد کرنے کی حوصلہ افزائی کرے گا اور چینی کمپنیوں کو بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری بڑھانے پر آمادہ کرے گا۔

دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون میں اضافے پر بھی تبادلۂ خیال کیا، تاہم اس شعبے میں کسی نئے معاہدے پر دستخط نہیں کیے گئے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق ملاقات میں چین، میانمار اور بنگلہ دیش اقتصادی راہداری کو آگے بڑھانے پر بھی اتفاقِ رائے پایا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد چین کے صوبہ یونان کو میانمار اور بنگلہ دیش سے جوڑ کر تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کو فروغ دینا ہے۔ دونوں ممالک نے مصنوعی ذہانت، سبز معیشت، کم کاربن ترقی، صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔

چین نے دریائے تیستا کی بحالی اور جامع انتظام کے منصوبے میں بھی بنگلہ دیش کی ہر ممکن مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ منصوبہ بنگلہ دیش کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور بیجنگ اپنی استطاعت کے مطابق اس میں تعاون فراہم کرے گا۔

اس سے قبل وزیراعظم طارق رحمان نے چین کی قومی عوامی کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ژاؤ لے جی سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات سے پہلے انہوں نے بیجنگ کے تیان آن من اسکوائر میں عوامی ہیروز کی یادگار پر حاضری دی، جہاں انہوں نے پھولوں کی چادر چڑھائی اور چینی انقلابی رہنماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے، جبکہ چینی مسلح افواج کے دستے نے وزیراعظم کو سرکاری سلامی پیش کی۔

وزیراعظم طارق رحمان چین کے وزیراعظم لی چیانگ کی دعوت پر چار روزہ سرکاری دورے پر چین میں موجود تھے۔ ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ ڈاکٹر زبیدہ رحمان سمیت ایک مختصر سرکاری وفد بھی تھا۔

جمعرات کے روز وزیراعظم طارق رحمان اور چینی وزیراعظم لی چیانگ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون کے لیے 13 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کے درمیان بھی ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا۔

دورے کے دوران وزیراعظم نے “انویسٹ بنگلہ دیش” کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کو بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے چین کی مختلف بڑی کمپنیوں کے سربراہان، سرمایہ کاروں اور اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

یہ طارق رحمان کا وزیراعظم بننے کے بعد پہلا غیر ملکی سرکاری دورہ ہے، جس کا آغاز ملائیشیا سے ہوا تھا۔ بعد ازاں وہ چین کے شہر دالیان میں عالمی اقتصادی فورم کے سمر ڈیووس اجلاس میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے عالمی رہنماؤں اور سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کیں اور بنگلہ دیش کی معاشی ترقی، سرمایہ کاری کے مواقع اور موسمیاتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔

بیجنگ پہنچنے پر وزیراعظم طارق رحمان کا سرکاری اعزاز کے ساتھ استقبال کیا گیا، جبکہ ان کے دورے کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں