وزیراعظم صاحب، اُردو پر پابندی لگا دیجیے

انگریز آئے ہوں تو ہمیں انگریزی کا ہیضہ ہو جاتا ہےاور ایرانی مہمان تشریف لائے ہوں تو ہمارے لبوں پر فارسی مچل مچل جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ  اپنی قومی زبان اردو کا کیا کرنا ہے؟ اردو سے اگر اتنی ہی بے زاری ہے تو کیوں نہ اس پر پابندی لگا دی جائے اور اسے کالعدم قرار دے کر ایک نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے کہ جو اردو بولے گا اس کی گردن میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کا ٹاور گاڑ دیا جائے گا۔

زبان ابلاغ کے لیے ہوتی ہے۔ اگر کسی مہمان کو صرف انگریزی زبان آتی ہو تو میزبان اس زبان میں بات کر لے تو یہ قابل فہم ہے۔ لیکن یہاں معاملہ یہ تھا کہ وزیر اعظم پاکستان انگریزی میں بات کر رہے تھے اور ایرانی صدر کے لیے اس کا فارسی میں ترجمہ کیا جا رہا تھا ۔ ایسا نہیں تھا کہ ایرانی صدر کو انگریزی نہیں آتی تھی ۔ وہ صرف اپنے نیشنلزم کے اظہار کے طور پر سن بھی فارسی میں رہے تھے اور بول بھی فارسی میں رہے تھے۔ اگر ان کے لیے فارسی ترجمہ ہی ہونا تھا تو پھر ہمارے وزیر اعظم اپنی قومی زبان اردو میں بات کر لیتے۔ کیا فرق پڑنا تھا؟ جب ہونا ہی ترجمہ ہی تھا تو اردو کا بھی ہو جاتا ۔

چین کے وزیر اعظم چو این لائی پاکستان آئے تو راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس کی۔ یہ کانفرنس چینی زبان میں تھی۔ ان کا مترجم اس کا انگریزی ترجمہ کر رہا تھا۔اس نے ایک دو الفاظ کا ترجمہ درست نہ کیا تو انہوں نے رک کر مترجم کی غلطی کی چینی زبان میں اصلاح کر دی۔ میترجم نے معذرت کرتے ہوئے وہ بات درست انداز سے دوبارہ بیان کر دی۔ پاکستان ٹائمز کے صحافی جے ایچ برکی نے بعد میں معزز مہمان سے پوچھا کہ آپ کو انگریزی پر ایسی شاندار گرفت ہے  تو آپ نے چینی زبان میں کیوں بات کی۔ چو این لائی نے مسکرا کر کہا کیونکہ ہم گونگے نہیں اور ہماری اپنی زبان شاندار ہے۔

دل میں ایک ٹیس سی اٹھتی ہے کہ کبھی تو ایرانی صدر، ترک صدر یا چو این لائی کی طرح ہمارا صدر اور وزیر اعظم بھی اپنی قومی زبان میں بات کرے۔ ہمیں بھی یہ احساس ہو کہ ہم گونگے نہیں ہیں ، ہماری اپنی ایک قومی زبان ہے۔

بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کی پہلی رولنگ ہی یہی تھی کہ ہاؤس کی زبان انگریزی ہو گی اور اردو صرف وہ بول سکے گا جسے انگریزی نہ آتی ہو اور اس صورت میں اردو بولنے سے پہلے اجازت لینا ہو گی اور اگر اجازت مل گئی تب اردو میں بات کی جا سکے گی۔ یہ تو ہمارا حال ہے۔

انگریزی ایک زبان ہے اور اس کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ معاملہ اس احساس کمتری سے نکل کر اپنی شناخت کی تلاش کا ہے جس سے ہمیں ایسٹ انڈیا کمپنی کے تربیت یافتہ اور ملکہ وکٹوریہ کے وفادار مقامی جنٹل مینوں نے محروم کر رکھا ہے۔

ہمارے احساس کمتری نے یہ تصور کر لیا ہے کہ زبان اب ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ وہ اس ملک میں طبقاتی تقسیم کی آلہ کار ہے۔یہ واردات صرف غلامی مشترکہ، معاف کیجیے، ’دولت مشترکہ‘ کا اجتماعی ورثہ ہے کہ عزت اور فضلیت صرف انگریزی زبان میں ہے اور اگر آپ کو اس زبان میں بات کرنا نہیں آتی تو آپ تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔

اس ملک کو اپنی زبان، اپنی تہذیب، اپنی ثقافت اور اپنی روایات کی ضرورت ہے۔ تبدیلی کا یہ واحد راستہ ہے۔ہر وہ طبقہ جو اس کی نفی کرتا ہے یا غاصب ہے یا احساس کمتری کا مارا ’مقامی جنٹل مین‘۔

پاکستان کو اللہ نے عزت دی ہے۔  اس عزت پر پاکستان کی قومی زبان کا بھی کوئی حق یے یا نہیں؟ اپنی ناقدری اگر آپ خود کریں گے تو اس سے بڑا کفران نعمت بھی کوئی ہو گا؟

اپنا تبصرہ لکھیں