ہو سکتا ہے یہ میری کوتاہ نظری ہو یا محض اتفاق ہو لیکن ایمل ولی خان صاحب کو میں نے جب بھی گفتگو کرتے دیکھا، جلال کی ایک ہی جیسی کیفیت میں دیکھا۔ اگر تو انہوں نے بڑے ہو کر پاکستان تحریک انصاف کا مرکزی رہنما بننا ہے تو پھر تو بالکل ٹھیک ہے، وہاں اسی رویے اور اسی طرز گفتگو کو دلاوری کہا جاتا ہے اور اسی کی پزیرائی ہوتی ہے۔ لیکن اگر انہوں نے ولی باغ کی سیاسی روایات کی وراثت سنبھالنی ہے تو پھر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ رویہ انہیں بالکل بھی نہیں جچ رہا۔
ولی باغ کی سیاسی میراث کو لے کر چلنا ہے تو مزاج کی تہذیب کرنا ہوگی اور اس کی ایک ہی صورت ہے جو مجھے نظر آ رہی ہے۔ وہ صورت یہ ہے کہ ایمل ولی خان صاحب کبھی کبھار وقت نکال کر مولانا فضل الرحمن کے ہاں آیا جایا کریں اور ان سے سیکھا کریں ۔ روایتی سیاست کا ایک ہی مکتب باقی ہے جس کا نام ہے مولانا فضل الرحمن۔
مولانا کے مکتب سے رجوع کرنے کی تین بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ مولانا ہیں، دوسری وجہ محترم باچا خان مرحوم اور تیسری وجہ مرحوم ولی خان صاحب ہیں۔
مولانا کا معاملہ تو ہمارے سامنے ہے۔ وہ ایک پورا سیاسی مکتب فکر ہیں۔ بات کہنے کا جو اسلوب ان کا ہے، کسی کا نہیں۔ سخت سے سخت بات بھی اس شائستگی سے کہہ جاتے ہیں کہ سننے والا بد مزہ ہونے کی ہمت بھی نہیں کر پاتا۔ ان کی گفتگو ایک گلدستہ ہے۔ اس میں کبھی پھولوں کی مہک نمایاں ہوتی ہے تو کبھی کانٹے بڑھ جاتے ہیں۔ جس کو وہ گلدستہ تھما دیتے ہیں اس کی قسمت کہ اسے خوشبو محسوس ہو یا کانٹوں کی چبھن۔ لیکن ہر صورت میں رہتا یہ گلدستہ ہی ہے۔ لینے والے کو بھلے کانٹا ہی چبھ رہا ہو، لیکن وہ مسکراتا ہے اور مولانا کا شکریہ ہی ادا کرتا رہ جاتا ہے۔ جوانی میں اگر ایسا مکتب ایمل ولی خان صاحب کو مل جائے تو ان کے سیاسی مزاج کی تہذیب ہو سکتی ہے ورنہ یہ شعلہ بیانی بتا رہی ہے کہ اسے روکا نہ گیا تو ولی باغ کی سیاسی روایات گھائل ہو جائیں گی۔
دوسری وجہ ولی باغ کی سیاسی روایات ہیں۔ محترم باچا خان مرحوم کے ہاں علم کے باب میں اتنی عاجزی تھی کہ اتنی بڑی شخصیت ہونے کے باوجود وہ سیکھنے سمجھنے کے عمل کو اعزاز سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمن کی ایک گواہی قابل غور ہے۔ مولانا بتاتے ہیں کہ:
“ایک دن شائد ولی باغ میں ہم بیٹھے تھے، مشہور یہ تھا کہ باچا خان بڑی سختی کرتے ہیں اور مہمان کو جب چائے پلاتے ہیں تو بڑے کنٹرول کے ساتھ کہ ایک کپ سے زیادہ نہیں پینا، اِس سے زیادہ روٹی نہیں کھانی اور مجھے اتنا یاد ہے کہ جب بھٹو صاحب کے زمانے میں تحریک چل رہی تھی تو خان عبدلولی خان، مفتی صاحب، چوہدری ظہور الہی، مولانا نصراللّٰہ خان یہ قافلے میں چل رہے ہوتے تو خان عبدالغفار خان بھی اُن جلسے جلوسوں میں شریک ہوتے تھے تو پھر یہ سارے حضرات باچا خان سے چھپ چھپا کے ایک گھر میں چائے کھانا بیٹھ کر کھایا کرتے تھے، اور جب خان صاحب کو پتہ چلتا تھا تو پھر اُن کو ڈانٹ بھی ملتی تھی کہ تم کیا انقلاب برپا کرو گے جو تم یہ عیاشیاں کرتے ہو، تو ایک دن میں اُن کا مہمان ہوا، میرے مہمان بننے کا سبب یہ تھا کہ دہلی میں جمعیت علماء ہند نے حضرت شیخ الہند سیمینار رکھا تھا تو میری ڈیوٹی لگائی تھی کہ آپ نے باچا خان کے پاس جاکر اُن کو دعوت دینی ہے تاکہ وہ یہاں دہلی ا کر اُس میں شریک ہوسکیں تو اِس وجہ سے میں اُن کے پاس گیا تھا، تو میں نے دیکھا کہ میز کے اوپر مٹھائی بھی پڑی ہوئی ہے اور چائے بھی، میں نے ڈرتے ڈرتے ایک کپ پیا تو خیال کیا کہ اب تو باچا خان ہمیں دوسرا کپ پینے نہیں دیں گے تو باچا خان نے کہا مولانا صاحب کو دوسرا کپ بھی بھرکے دو، تو اُس کے بعد جب سب میں مٹھائی تقسیم کی تو واپس آ کے کہا کہ مٹھائی مولانا صاحب کے سامنے رکھو، میں نے سوچا کہ آج معمول سے رویے بدلے ہوئے ہیں۔ یہ اُن کی ایک شفقت تھی، محبت تھی جن کا انہوں نے اظہار کیا ۔میرے طرف دیکھ کر کہا کہ فضل الرحمن بات سنو یہ ولی کو ذرا سمجھاو اِس کو سیاست کرنی نہیں آتی، اب میں ہکا بکا اُن کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ چلو ولی کہنا تو آپ کا حق ہے آپ کا بیٹا ہے لیکن میرے لیے تو اُن کی حیثیت باپ کی ہے میں تو اُن سے سیاست سیکھتا ہوں میں نے اُن کو کیا سمجھانا ہے ۔”
آپ غور کریں، آپ باچا خان صاحب کا بڑا پن دیکھیں، آپ عمروں اور مراتب کا فرق دیکھیں کہ مولانا کہہ رہے ہیں وہ ولی خان صاحب کو باپ کی حیثیت دیتے تھے لیکن باچا خان صاحب کہہ رہے ہیں کہ فضل الرحمن بات سنو یہ ولی کو ذرا سمجھاو اِس کو سیاست کرنی نہیں آتی۔
یعنی اس گھرانے کی روایات میں سیکھنا باعث اعزاز ہے۔ یہ بات ایمل ولی خان کو بھی پلے باندھ لینی چاہیے۔ ولی باغ کے سیاسی وارث کے لیے تحریک انصاف جیسا آتشیں لہجہ سیکھ لینا کوئی باعث اعزاز نہیں ہے ۔ اس کے لیے باعث اعزاز وہی علمی اور تہذیبی روایت ہونی چاہیے جو اس کا اصل ورثہ ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ خود مولانا فضل الرحمن بتاتے ہیں کہ انہوں نے ولی خان مرحوم سے سیکھا۔ یعنی یہ باہمی ادب و آداب اور سیاسی تربیت، دونوں گھرانوں کے لیے اجنبی نہیں۔ کل مولانا نے ولی خان صاحب سے سیکھا تو آج ایمل ولی، مولانا سے بھی سیکھ سکتے ہیں۔
مولانا کی روایت ہے کہ: “آج بھی میرے دل سے ولی خان کے لیے دعا نکلتی ہے جب میں اُن کے گھر گیا اور ہم ایم آر ڈی میں تھے مارشل لاء کے خلاف تحریک تھی، تو میں اُن کے ساتھ بیٹھا تو مجھے کہا کہ بیٹا فضل الرحمن میں نے بھی جوانی میں سیاست شروع کی تھی آپ ہی کے عمر میں تھا جب میں نے سیاست شروع کی اور جوانی میں آدمی جذباتی ہوتا ہے اور جذبات میں جب مقصد حاصل نہیں ہوتا، منزل نہیں ملتی تو آدمی مایوس ہوجاتا ہے، تو تیرے اوپر بھی ایسے مراحل آئیں گے، خبردار مایوس نہیں ہونا، آگے بڑھنا ہے، بخدا بہت سے مراحل میرے پاس آئے لیکن یہ بات اُس وقت مجھے سہارا دے گئی اور آج تک میں اُس سہارے کو استعمال کرتا ہوں۔”
اے این پی کے اکثر بزرگ اس دنیا سے رخصت ہو چکے، جو باقی ہیں معلوم نہیں، ایمل ولی خان ان سے کچھ سیکھتے بھی ہیں یا ان کو صرف حکم سناتے ہیں ۔ یہ جماعت کے اندر کی باتیں ہیں اور مجھے معلوم نہیں۔ لیکن جو مجھے معلوم ہے اور جو اندر کی بات نہیں بلکہ سامنے کی حقیقت ہے وہ ایمل خان صاحب کا لب و لہجہ ہے جس میں تلخی اور تندی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اگر آخری فیصلہ نہیں کر لیا کہ بڑے ہو کر تحریک انصاف میں شامل ہونا ہی ہونا ہے تو انہیں اپنے رویے کی تہذیب کرنا ہو گی۔
دستیاب مکتب ایک ہی ہے: مولانا۔ اور ولی باغ کی تہذیبی روایات بتاتی ہیں کہ یہ ان کے گھر کا مکتب ہے۔ یہ کوئی پرائی بات نہیں ۔ یہ گھر کا معاملہ ہے۔