بنگلہ دیش اور چین نے دریائی انتظام، سیلاب سے نمٹنے اور آبی وسائل کے بہتر استعمال کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جس میں دریائے تیستا کے جامع انتظام اور بحالی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
یہ اتفاق رائے بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمان اور چین کے وزیرِ آبی وسائل لی گوئینگ کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران ہوا۔
ملاقات میں وزیرِ اعظم طارق رحمان نے بنگلہ دیش میں جاری دریاؤں کی کھدائی کے پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد سیلاب کے خطرات کم کرنا، ماحولیات کا تحفظ اور آبی وسائل کا پائیدار انتظام یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے آبی وسائل کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے چین سے تعاون کی درخواست کی اور امید ظاہر کی کہ چین دریائے تیستا منصوبے کے نفاذ میں تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔
چینی وزیرِ آبی وسائل نے بنگلہ دیش کی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس شعبے میں تعاون عملی، تحقیق پر مبنی اور باہمی فائدے کا حامل رہا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ دونوں ممالک کے درمیان 2005 میں آبی وسائل کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے، جبکہ گزشتہ سال چینی ماہرین نے بھی بنگلہ دیش کا دورہ کیا تھا۔
وزیرِ اعظم طارق رحمان نے دریائی کٹاؤ کی روک تھام، آبپاشی کے نظام کی بہتری اور اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کو فروغ دینے کے لیے بھی چینی تعاون کی درخواست کی۔
اس موقع پر چینی وزیر نے کہا کہ بنگلہ دیش آبی وسائل کے انتظام کے حوالے سے چین کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیشی ماہرین اور متعلقہ حکام کو تربیت کے لیے چین آنے کی دعوت بھی دی۔
بنگلہ دیش میں دریائی کٹاؤ ایک بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث ہر سال ہزاروں افراد بے گھر ہوتے ہیں اور معیشت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
دریائے تیستا منصوبہ بنگلہ دیشی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، جس کا مقصد پانی کے بہتر انتظام، آبپاشی کی سہولیات میں اضافے، دریائی کناروں کے تحفظ اور ملک کے شمالی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے وزرا اور اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ حکام کے مطابق یہ ملاقات آبی وسائل کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے اور پائیدار ترقی کے لیے نئی شراکت داریوں کے امکانات تلاش کرنے کے عزم کی عکاس ہے۔