برطانیہ میں شدید گرمی کی لہر نے معمولِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جہاں درجہ حرارت کئی علاقوں میں 36.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو جون کے مہینے کا نیا ریکارڈ ہے۔
لندن میں موسمیاتی تبدیلی پر ہونے والی ایک اہم کانفرنس بھی شدید گرمی کے باعث منسوخ کر دی گئی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا کہ “لندن صرف پکار نہیں رہا، بلکہ گرمی سے تپ رہا ہے۔”
شدید گرمی کے باعث ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد اسکول اور نرسریاں بند کر دی گئی ہیں، جبکہ ایک ہی روز میں تقریباً 2600 ٹرین سروسز منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید دھوپ سے ریلوے پٹریاں گرم ہونے کے باعث حادثات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
گرمی کی شدت کے باعث ایئر کنڈیشنرز کی فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 420 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ کئی دکانوں میں ان کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ اسی دوران گاڑیوں کی خرابی کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
برطانیہ کے بیشتر گھر سرد موسم کو مدنظر رکھ کر تعمیر کیے گئے تھے، اس لیے وہ شدید گرمی کا مقابلہ کرنے کے لیے موزوں نہیں۔ کم آمدنی والے خاندان، بزرگ افراد اور کرائے کے گھروں میں رہنے والے افراد اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
ماحولیاتی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرے، جس میں اسکولوں، اسپتالوں اور گھروں کو مستقبل کی شدید گرمی کے مطابق ڈھالنے کے اقدامات شامل ہوں۔
اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو 2050 تک برطانیہ میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت معمول بن سکتا ہے۔