اسرائیل اور لبنان نے امریکہ کی ثالثی میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جسے واشنگٹن نے دونوں ممالک کے درمیان امن کی طرف پہلا قدم قرار دیا ہے۔
یہ معاہدہ کئی ماہ تک جاری رہنے والی براہِ راست بات چیت کے بعد طے پایا۔ امریکہ بھی اس معاہدے کا دستخط کنندہ ہے، اس لیے اسے سہ فریقی معاہدہ کہا جا رہا ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے مطابق معاہدے کا مقصد لبنان کی خودمختاری بحال کرنا، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا، اس کے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنا اور اسرائیل کو اپنی سرحدوں تک واپس جانے کا راستہ دینا ہے۔
معاہدے کے تحت ایک سہ فریقی ملٹری کوآرڈینیشن گروپ بھی بنایا جائے گا، جو لبنان میں اس فریم ورک پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔
معاہدے میں کہا گیا ہے کہ لبنان کی فوج بتدریج ملک کے تمام علاقوں پر مؤثر ریاستی کنٹرول بحال کرے گی، جبکہ غیر ریاستی مسلح گروہوں، یعنی حزب اللہ، کو غیر مسلح کیا جائے گا۔
اس فریم ورک کے مطابق اسرائیل کا لبنان سے انخلا مرحلہ وار ہو گا۔ پہلے دو “پائلٹ زونز” بنائے جائیں گے، جہاں لبنانی فوج سکیورٹی کی مکمل ذمہ داری سنبھالے گی۔ ان علاقوں میں مسلح گروہوں کے ڈھانچے کے خاتمے کی تصدیق کے بعد تعمیرِ نو شروع ہو گی اور شہریوں کی واپسی ممکن بنائی جائے گی۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے کہا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد اسرائیل کو تمام لبنانی علاقوں سے نکالنا ہے۔ تاہم معاہدے میں اسرائیلی انخلا کو حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے سے مشروط کیا گیا ہے۔
یہی نکتہ معاہدے کو متنازع بنا رہا ہے۔ حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کو لبنان سے غیر مشروط طور پر نکلنا چاہیے، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ جب تک حزب اللہ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیلی فوج لبنان سے واپس نہیں جائے گی۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان کے بڑے حصے پر قابض ہے اور معاہدے کے دن بھی جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
لبنان اور اسرائیل 1948 سے حالتِ جنگ میں ہیں۔ اسرائیل ماضی میں بھی لبنان پر کئی حملے کر چکا ہے اور 1982 سے 2000 تک جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر قابض رہا۔
خارجہ امور کے ماہرین کے مطابق یہ فریم ورک معاہدہ امن کی طرف ایک ابتدائی قدم ضرور ہے، لیکن اسے عملی شکل دینا آسان نہیں ہو گا۔ حزب اللہ مذاکرات کا حصہ نہیں تھا، مگر لبنان کے اندر اس کا اثر و رسوخ اب بھی بہت زیادہ ہے۔ اگر لبنانی فوج کو حزب اللہ کے خلاف کارروائی پر مجبور کیا گیا تو ملک میں اندرونی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل بھی واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے نام پر لبنان میں کارروائیاں جاری رکھ سکتا ہے۔