پاکستان کے 24 کروڑ عوام کو دریائے سندھ کے پانی پر ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے، پاکستان

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کو دریائے سندھ کے پانی پر ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے قانونی اور آئینی فریم ورک سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی لائف لائن ہے اور اس کے پانی پر پاکستانی عوام کا حق دل کی گہرائیوں سے تسلیم کیا جاتا ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے سندھ طاس معاہدے کو امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج صرف ایک معاہدے پر بات نہیں ہو رہی بلکہ پاکستان کے کروڑوں عوام کی زندگی سے جڑے مسئلے پر گفتگو ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ پاکستان کی شناخت، تاریخ اور تہذیب کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق سندھ طاس نظام نے ہزاروں سال سے اس خطے کی تہذیب، زراعت اور آبادی کو زندگی دی ہے۔

وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ عالمی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، کیونکہ یہ جنگوں، سیاسی کشیدگی اور مشکل حالات کے باوجود چھ دہائیوں سے برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ عالمی قانون، وعدوں کی پاسداری اور پرامن تنازعاتی حل کی ایک اہم مثال ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت واضح کر چکی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ، تبدیل یا التوا میں نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے انڈیا کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کی باہمی رضامندی سے طے پایا تھا، اس لیے اس میں کوئی بھی تبدیلی دونوں ممالک کی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں۔

وزیرِ اطلاعات کے مطابق انڈیا کی جانب سے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر التوا میں رکھنے کی کوشش مختلف عالمی اور قانونی فورمز پر اس کے لیے شرمندگی کا باعث بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلنے اور پانی کی کمی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے دور میں سندھ طاس معاہدے کا تحفظ مزید ضروری ہو گیا ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے خبردار کیا کہ پانی کو ہتھیار بنانے یا طے شدہ معاہدوں کو یکطرفہ طور پر بدلنے کی کوششیں خطے کے امن، استحکام اور عالمی قانون کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ پرامن بات چیت، تعمیری رابطے اور معاہدے پر عمل درآمد کا حامی رہا ہے، لیکن اگر پاکستان کے پانی کو روکنے کی کوشش کی گئی تو ملک کی قیادت عوام کے پانی کے حق کے تحفظ کے لیے مؤثر جواب دے گی۔

وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ پاکستان تمام عالمی فورمز پر قانونی اور سفارتی طور پر اپنے عوام کے پانی کے حق کا دفاع کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں