عالمی ادارہ صحت، ڈبلیو ایچ او، نے مون سون سیزن سے قبل پاکستان میں ممکنہ سیلاب اور بیماریوں کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے طبی سامان کی پیشگی فراہمی شروع کر دی ہے۔ ادارے کے مطابق یہ طبی سامان ملک بھر میں 3 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کی مدد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
پاکستان میں مون سون کا موسم جولائی سے ستمبر تک جاری رہتا ہے، جس کے دوران شدید بارشوں، سیلاب اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے بتایا کہ طبی سامان سے بھرے 9 ٹرک ملک کے مختلف حصوں کی طرف روانہ کر دیے گئے ہیں، جبکہ کچھ سامان ڈبلیو ایچ او کے مراکز میں رکھا جائے گا تاکہ ضرورت پڑنے پر صوبائی حکام یا شراکت دار اداروں کو فوری فراہم کیا جا سکے۔
فراہم کیے گئے سامان میں اینٹی بائیوٹکس، درد کم کرنے والی ادویات، ڈرپس، اینٹی وائرل ادویات، بلڈ پریشر کی ادویات، الرجی کی دوائیں، پانی صاف کرنے کی گولیاں، انفیکشن سے بچاؤ کے کٹس اور لیبارٹری سامان شامل ہے۔ یہ لیبارٹری سامان ڈینگی، ملیریا اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی تشخیص میں مدد دے گا۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس اقدام کا مقصد سیلاب یا آفات سے متاثرہ آبادی کو ضروری ادویات تک فوری رسائی دینا، وبائی بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں مدد فراہم کرنا، انفیکشن سے بچاؤ کے اقدامات مضبوط کرنا اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرے کو کم کرنا ہے۔
پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لوو داپینگ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث قدرتی آفات کے خطرات بڑھ رہے ہیں، اس لیے پیشگی تیاری انسانی جانیں بچانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی ایمرجنسی ٹیمیں قومی اور صوبائی حکام کے ساتھ مل کر ادویات اور طبی سامان پہلے سے محفوظ مقامات پر پہنچا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔
عالمی رسک رپورٹ 2024 کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلی اور شدید موسمی واقعات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ گلوبل کلائمیٹ انڈیکس 2026 کے مطابق بھی پاکستان 1995 سے 2024 کے دوران شدید موسمی واقعات سے متاثر ہونے والے 15 بڑے ممالک میں شامل رہا۔