بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش اور چین کے تعلقات باہمی تعاون کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے ہیں۔
ڈھاکا میں میڈیا بریفنگ کے دوران وزیرِ خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم طارق رحمان کے حالیہ دورۂ چین کے بعد دونوں ممالک نے نئے دور میں “بنگلہ دیش-چین کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر” قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے دوطرفہ تعلقات میں یہ تعاون کی اعلیٰ ترین سطح سمجھی جاتی ہے۔
وزیرِ خارجہ کے مطابق وزیراعظم طارق رحمان کے ملائیشیا اور چین کے پہلے غیر ملکی دورے نے ڈھاکا کے کوالالمپور اور بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بنگلہ دیش اور چین کے درمیان سیاسی تعاون مضبوط کرنے کے لیے پارٹی ٹو پارٹی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔
دونوں ممالک نے آبی وسائل کے بہتر انتظام، سیلاب کی پیش گوئی، آفات میں کمی، دریا کی صفائی اور متعلقہ ٹیکنالوجی کے تبادلے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
وزیرِ خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان نے کہا کہ بنگلہ دیش نے چین کو میانمار کے راستے ایک اقتصادی راہداری قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش-میانمار-چین اقتصادی راہداری سے خام مال اور تجارتی سامان کی نقل و حمل کا وقت اور لاگت کم ہو سکتی ہے، جس سے بنگلہ دیش کی مسابقتی صلاحیت بڑھے گی۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ چٹاگانگ کے انوارہ علاقے میں بننے والے چینی اقتصادی زون کی کامیابی کے لیے مؤثر لاجسٹکس بہت ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بنگلہ دیش میانمار کی بندرگاہوں کے ساتھ ملٹی موڈل رابطہ قائم کر لے تو چین سے خام مال لانے اور تیار مال برآمد کرنے میں وقت اور خرچ نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔
وزیرِ خارجہ کے مطابق اس تجویز پر ابھی غور کیا جا رہا ہے اور دونوں ممالک اس کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ٹرانسپورٹ لاگت کم کرنا، وقت بچانا، سرمایہ کاری کو آسان بنانا اور بنگلہ دیش کی صنعتی ترقی کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
وزیراعظم طارق رحمان جمعے کو بیجنگ سے وطن واپس پہنچے، جہاں انہوں نے ملائیشیا اور چین کے اپنے پہلے غیر ملکی دورے مکمل کیے۔