لاہور کے علاقے کاہنہ میں منگل کے روز ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے کم از کم 14 بچے جاں بحق جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔
پنجاب کے وزیرِ صحت خواجہ عمران نذیر نے ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملبے تلے دبنے والے 20 افراد کو نکال کر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کاہنہ منتقل کیا گیا۔
ان کے مطابق 14 بچوں کو ہسپتال لایا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ دو بچوں کو طبی امداد کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی، جبکہ زیرِ علاج دیگر چار زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔
لاہور پولیس کے مطابق ریسکیو کارروائی مکمل کر لی گئی ہے اور ابتدائی تحقیقات کے سلسلے میں مکان کے مالک اور زیرِ تعمیر حصے کے ٹھیکیدار سمیت دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور اگر غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق عمارت میں دو کمرے بطور ٹیوشن سینٹر استعمال ہو رہے تھے، جہاں کم عمر بچے موجود تھے۔ چھت گرنے سے وہ ملبے تلے دب گئے۔
پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ذمہ دار افراد کا تعین کر کے ان کے خلاف فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے۔
حکام کے مطابق واقعے کے وقت ٹیوشن سینٹر میں تقریباً 30 سے 35 بچے موجود تھے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔