وینزویلا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 1450 تک پہنچ گئی، ملبے تلے زندہ افراد کی تلاش جاری

وینزویلا کے شمالی علاقوں میں آنے والے طاقتور زلزلوں کے تین دن گزرنے کے بعد بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم مسلسل آفٹر شاکس، تباہ حال سڑکوں اور ٹریفک کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

بدھ کے روز 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلوں نے وینزویلا کی شمالی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1450 ہو گئی ہے، جبکہ 3150 افراد زخمی اور 12 ہزار 721 بے گھر ہو چکے ہیں۔

وینزویلا کی قومی اسمبلی کے سربراہ خورخے روڈریگیز نے اتوار کو کہا کہ 774 عمارتیں تباہ یا متاثر ہوئی ہیں، جن میں سے 189 مکمل طور پر منہدم ہو گئیں جبکہ 585 کو جزوی نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔”

زلزلے کے بعد ابتدائی 72 گھنٹے ملبے تلے دبے افراد کو زندہ نکالنے کے لیے سب سے اہم سمجھے جاتے ہیں، اور اب یہ مدت گزر چکی ہے، جس کے باعث زندہ بچ جانے والوں کی امیدیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔

زلزلے کے بعد اب تک 430 سے زیادہ آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جس کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست لا گوائرا کے ہزاروں رہائشی خوف کے باعث کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں۔

امدادی کارروائیوں میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ مرکزی شاہراہ پر شدید ٹریفک ہے۔ بڑی تعداد میں شہری خوراک، پانی، ادویات اور دیگر امدادی سامان لے کر متاثرہ علاقوں کی جانب جا رہے ہیں، جس کے باعث امدادی ٹیمیں بھی کئی گھنٹوں تک ٹریفک میں پھنسی رہیں۔

حکام نے سرکاری اور مجاز گاڑیوں کے علاوہ دیگر گاڑیوں کے داخلے پر پابندی لگانے کی کوشش کی، تاہم متعدد رضاکار امداد پہنچانے کے لیے سڑکوں پر موجود رہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق کم از کم 125 عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

یونیسیف کا کہنا ہے کہ تقریباً 18 لاکھ افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے، جن میں لگ بھگ چھ لاکھ 80 ہزار بچے شامل ہیں۔

اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے 21 ممالک سے 140 خصوصی تربیت یافتہ ریسکیو کتوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے، جبکہ امریکہ، چین، یورپی ممالک اور جنوبی امریکہ کے کئی ممالک سمیت درجنوں ملکوں نے وینزویلا کو امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں