روس کے دارالحکومت ماسکو پر پیر اور منگل کی درمیانی شب ڈرون حملوں کی متعدد لہریں دیکھی گئیں، جس کے بعد روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے 60 سے زائد ڈرون تباہ کر دیے۔
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ ہنگامی امدادی ٹیمیں ڈرون گرنے کے مقامات پر کام کر رہی ہیں۔ تاہم ان کے مطابق فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
میئر نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ڈرون کہاں سے آئے تھے، جبکہ خبر شائع ہونے تک یوکرین کی جانب سے بھی اس بارے میں کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا تھا۔
ادھر روس کی وفاقی فضائی ٹرانسپورٹ ایجنسی روساویاتسیا نے پروازوں کے تحفظ کے پیشِ نظر ماسکو کے چند بڑے ہوائی اڈوں پر عارضی پابندیاں عائد کیں۔ بعد ازاں حکام نے بتایا کہ دومودیدوو اور ژوکوفسکی ہوائی اڈوں پر دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں پروازیں بحال کر دی گئیں۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب رواں ماہ کے آغاز میں یوکرین نے ماسکو پر اپنے بڑے ڈرون حملوں میں سے ایک کیا تھا۔ روسی حکام کے مطابق اس حملے میں ماسکو کے علاقے میں کم از کم 17 افراد زخمی ہوئے تھے، ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا تھا اور شہر کے چاروں بڑے ہوائی اڈے عارضی طور پر بند کر دیے گئے تھے۔
بعد ازاں روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کارروائی کے دوران ملک بھر میں تقریباً ایک ہزار ڈرون مار گرائے گئے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس وقت کہا تھا کہ یہ کارروائی کیف میں ایک خانقاہی کمپلیکس پر ہونے والے حملے کے جواب میں کی گئی، جبکہ روس نے دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ مقام یوکرین کے اپنے فضائی دفاعی میزائل کی غلطی سے نشانہ بنا۔