یورپین اسپیس ایجنسی (ESA) نے اسپیس ٹیلی اسکوپ یوکلیڈ سے حاصل کردہ پہلا ڈیٹا جاری کر دیا ہے، جس میں مزید 2 کروڑ 60 لاکھ کہکشاؤں کی حیرت انگیز دریافت سامنے آئی ہے۔
یہ نئی دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات کی کھوج ابھی جاری ہے اور اس کی وسعت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ مشاہدہ صرف شروعات ہے اور یوکلیڈ مشن مکمل ہونے پر ایک مکمل کہکشانی کیٹلاگ تیار کیا جائے گا۔
ای ایس اے کے مطابق یوکلیڈ مشن کے تحت آسمان کے تین مختلف حصوں کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا، جس کے دوران یہ حیران کن تعداد میں کہکشائیں دریافت ہوئیں۔ اس ڈیٹا کے ساتھ ای ایس اے نے کہکشاؤں کی اعلیٰ معیار کی تصاویر اور ایک دلچسپ ویڈیو بھی جاری کی، جس نے دنیا بھر کے ماہرین فلکیات کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کائنات کی کھوج میں محض پہلا قدم ہے، اور مزید تحقیق سے ایسے راز آشکار ہو سکتے ہیں جو ہماری موجودہ سائنسی سمجھ بوجھ سے کہیں زیادہ حیران کن ہوں گے۔ یوکلیڈ مشن کا بنیادی مقصد اندھیرے میں چھپی کہکشاؤں، تاریک مادے اور توانائی کے رازوں کو جانچنا ہے، جو کائنات کی وسعت اور اس کی تشکیل کے بارے میں ایک نیا باب کھول سکتے ہیں۔