ازبک صدر شوکت مرزائیوف کا قازقستان کے صدر کے ہمراہ ازبکستان کی جانب سے ترکستان میں تعمیر کی گئی نئی جامع مسجد کا دورہ

ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف کے ہمراہ قازقستان کے شہر ترکستان میں ازبکستان کی جانب سے تعمیر کی گئی نئی جامع مسجد کا دورہ کیا۔

اس مسجد کا مجموعی رقبہ 7 ہیکٹر سے زائد ہے اور اس میں 5 ہزار سے زیادہ افراد کے بیک وقت نماز ادا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس شاندار مسجد میں چار 70 میٹر بلند مینارے شامل ہیں، جبکہ مرکزی عمارت تین منزلوں پر مشتمل ہے جس میں مرکزی ہال اور روایتی ایوان بھی موجود ہیں۔

مسجد کی تعمیر میں اسلامی اور مشرقی طرزِ تعمیر کی بہترین روایات کو جدید تعمیراتی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ اس کے اندرونی حصے میں خطاطی اور نقش و نگاری کے خوبصورت نمونے بھی نمایاں ہیں۔

مسجد کے اطراف 4.2 ہیکٹر رقبے پر بھی ترقیاتی اور تزئینی کام جاری ہے، جہاں سبزہ زار، پیدل چلنے کے راستے، آرام گاہیں، روشنی کا نظام، فوارے اور دیگر خوبصورت مناظر شامل کیے جا رہے ہیں۔

ازبک صدر کے دفتر کے مطابق، یہ مسجد ازبکستان کی جانب سے برادر ملک قازقستان اور ترکستان کے عوام کے لیے ایک تحفہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستی، ثقافتی قربت اور مضبوط تعلقات کی علامت ہے۔

دورے کے دوران دونوں صدور نے قرآن پاک کی تلاوت کی اور دونوں برادر ممالک کے عوام کے لیے امن و خوشحالی کی دعا بھی کی ۔

اس سے قبل صدر شوکت مرزائیوف سرکاری دورے پر قازقستان کے شہر ترکستان پہنچے، جہاں حضرت سلطان بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قازقستان کے ریاستی مشیر یرلان کارین، ترکستان ریجن کے گورنر نورالخان کوشیروف اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔

صدر کے دفتر کے مطابق وہ ترک ریاستوں کی تنظیم کے غیر رسمی سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں