شنگھائی میں عالمی اے آئی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ اے آئی کی ترقی کسی ایک ملک کی تنہا کارکردگی نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے عالمی تعاون کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔
شی جن پنگ نے کہا کہ اے آئی کی ترقی کو ایک ملک تک محدود رکھنے کے بجائے بین الاقوامی تعاون کی مشترکہ کوشش بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو اے آئی کے شعبے میں قومی سلامتی کے تصور کو حد سے زیادہ پھیلانے اور ایک ملک کی سلامتی کو دوسرے ممالک کی سلامتی پر فوقیت دینے کی روش کی مخالفت کرنی چاہیے۔
چینی صدر کے مطابق اے آئی کی ترقی انسان دوست، عوامی مفاد پر مبنی اور عالمی سطح پر منصفانہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کو ہمیشہ انسانی نگرانی اور انسانی اختیار کے تحت رہنا چاہیے۔
شی جن پنگ نے زور دیا کہ اس مقصد کے لیے قوانین، نگرانی کا نظام، پیشگی خبرداری اور ہنگامی ردعمل کا مؤثر ڈھانچہ قائم کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اے آئی ترقی پذیر ممالک کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے، لیکن اگر اس تک رسائی چند طاقتور ممالک تک محدود رہی تو نئی ناانصافیاں جنم لے سکتی ہیں۔
چینی صدر نے اعلان کیا کہ چین آئندہ 5 برسوں میں ترقی پذیر ممالک کے لیے اے آئی سے متعلق 5 ہزار تربیتی مواقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین افریقہ، لاطینی امریکا، ایشیا، برکس، شنگھائی تعاون تنظیم، عرب لیگ اور دیگر عالمی و علاقائی اداروں کے ساتھ اے آئی تعاون بڑھائے گا۔
الجزیرہ کے مطابق چین 30 ممالک کو اپنے تیار کردہ اے آئی موسمیاتی پیشگی خبرداری نظام تک رسائی دینے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔ اس نظام کا مقصد موسم سے متعلق خطرات کے بارے میں بروقت اطلاع دینا اور انسانی جانوں و املاک کو محفوظ بنانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
اس کانفرنس میں ‘عالمی اے آئی تعاون تنظیم’ کے قیام سے متعلق معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے، جس میں 29 ممالک کی شرکت بتائی گئی ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق کانفرنس میں 1100 سے زائد اداروں اور 1400 مہمانوں نے شرکت کی۔
چین اس کانفرنس کے ذریعے خود کو اے آئی کی عالمی حکمرانی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ چینی اے آئی ماڈلز حالیہ عرصے میں کم لاگت اور اوپن سورس سہولتوں کی وجہ سے عالمی صارفین کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم اے آئی کے استعمال سے متعلق عالمی سطح پر کئی خدشات بھی موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق اے آئی کا عسکری استعمال، ہیکرز اور جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے اس کا غلط استعمال، اور روزگار پر اس کے اثرات دنیا کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔ امریکا اور یورپی یونین نے قومی سلامتی کے خدشات کے تحت چین کو جدید چِپس اور بعض ٹیکنالوجی تک رسائی محدود کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔
چین ان پابندیوں کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں غیر منصفانہ رکاوٹ قرار دیتا ہے۔
چین اے آئی کو اپنی صنعتی پالیسی کا اہم ستون بنا چکا ہے، جس میں چِپس، ڈیٹا سینٹرز، اے آئی ماڈلز اور عام صارفین کے استعمال تک پورا نظام شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ چین کو جدید ترین چِپس تک رسائی میں امریکا کے مقابلے میں مشکلات کا سامنا ہے، مگر سستی اور بڑی مقدار میں بجلی کی دستیابی اسے بڑے ڈیٹا سینٹرز چلانے میں فائدہ دے سکتی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ادارے کے مطابق ایک عام ڈیٹا سینٹر 1 لاکھ گھروں کے برابر بجلی استعمال کر سکتا ہے، جبکہ نئی جنریشن کے بہت بڑے ڈیٹا سینٹرز 20 لاکھ گھروں کے برابر توانائی خرچ کر سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق چین پہلے ہی امریکا کے مقابلے میں 2 گنا سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے، اور توانائی کے شعبے میں ریاستی سرمایہ کاری کے باعث یہ برتری مزید بڑھ سکتی ہے۔