امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز انتخابی تحفظ سے متعلق اپنے ایک خطاب میں چین، سابق حکومتوں اور سرکاری اداروں کے بعض اہلکاروں پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے انتخابی نظام میں کمزوریاں موجود ہیں اور امریکی عوام کو کئی برس تک انتخابی تحفظ کے معاملے پر گمراہ کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ 2020 کے انتخابات کے وقت چین نے امریکی ووٹرزسے متعلق بڑے پیمانے پر ریکارڈ حاصل کیا۔
ان کے مطابق چین نے غیر قانونی طریقوں سے 22 کروڑ امریکی ووٹرزکا ریکارڈ حاصل کیا، جس میں نام، پتے اور سیاسی وابستگی سے متعلق معلومات شامل تھیں۔
چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے کبھی امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت نہیں کی اور نہ آئندہ کرے گا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ اس ریکارڈ کو کسی انتخابی نتیجے پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا گیا۔
امریکا کی کئی ریاستوں میں رائے دہندگان سے متعلق بعض معلومات پہلے ہی عوامی طور پر دستیاب ہوتی ہیں، جبکہ کچھ ریاستیں یہ ریکارڈ فروخت بھی کرتی ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ڈیپ اسٹیٹ کے مبینہ کردار کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ بعض سرکاری اہلکاروں نے چین سے متعلق معلومات چھپانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی روزانہ خفیہ بریفنگ سے اہم معلومات نکال دی جاتی تھیں۔
ماہرین کے مطابق صدر کو دی جانے والی خفیہ بریفنگ عموماً مختصر اور منتخب معلومات پر مبنی ہوتی ہے، اس لیے ہر اطلاع کو اس میں شامل نہ کرنا لازماً سازش ثابت نہیں کرتا۔
جنوری 2021 میں تیار کی گئی ایک امریکی خفیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ چین نے 2020 میں انتخابات پر اثر انداز ہونے کی مہم شروع کرنے پر غور کیا تھا، مگر آخرکار ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اعلیٰ قانون نافذ کرنے والے حکام کو ہدایت کی ہے کہ مبینہ پردہ پوشی میں شامل افراد کے خلاف کارروائی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر فوجداری مقدمات بھی بنائے جائیں۔
ٹرمپ نے امریکی انتخابی مشینوں اور ووٹ گننے کے نظام کو بھی غیر محفوظ قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابی ڈھانچہ آسانی سے متاثر کیا جا سکتا ہے اور حکومت کے اندر موجود افراد کو یہ بات معلوم تھی۔
تاہم ناقدین کے مطابق امریکا میں انتخابات ریاستی اور مقامی سطح پر کرائے جاتے ہیں، جس کے باعث بڑے پیمانے پر ووٹوں میں یکساں ردوبدل انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ماضی کے جائزوں اور تحقیقات میں ایسا قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آیا کہ کسی بیرونی فریق نے امریکی صدارتی انتخاب کے ووٹوں کی گنتی یا نتیجے کو تبدیل کیا ہو۔
ٹرمپ نے مشی گن کے ایک پرانے معاملے کا بھی ذکر کیا، جس میں ووٹر اندراج کے کچھ فارموں میں غلط معلومات کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق یہ فارم کارروائی میں شامل نہیں کیے گئے تھے اور ان کا 2020 کے انتخابی نتیجے پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔ ریاستی حکام اور وفاقی تحقیقاتی ادارے نے اس معاملے کی جانچ کی تھی، مگر دھاندلی کے ثبوت نہیں ملے۔
اس کے باوجود ٹرمپ نے اس واقعے کو بڑی انتخابی خلاف ورزی کے طور پر پیش کیا اور سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر تحقیقات نہ کرنے کا الزام لگایا۔
خطاب کے بعد ڈیموکریٹس نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ عوامی اعتماد کم کرنے اور 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ووٹرز میں شکوک پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی نمائندے جیسن کرو نے کہا کہ ٹرمپ انتخابی عمل سے متعلق جھوٹ اور مبالغہ آرائی کے ذریعے ووٹرز کو بددل کرنا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے خطاب کے آخر میں انتخابی قوانین سخت کرنے کے مجوزہ قانون کی حمایت بھی کی۔ اس قانون کے تحت ووٹر اندراج کے لیے شہریت کا سخت ثبوت، جیسے پیدائشی سند یا پاسپورٹ، پیش کرنا لازم ہو سکتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی شرط بعض امریکی شہریوں، خاص طور پر کم آمدنی والے افراد، بزرگوں اور دستاویزات تک محدود رسائی رکھنے والوں کو ووٹ کے حق سے محروم کر سکتی ہے۔