امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے اسرائیلی انٹیلی جنس سے غیر واضح روابط تھے۔ پوڈکاسٹر جو روگن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وینس سے پوچھا گیا کہ آیا ایپسٹین کے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد سے تعلقات تھے۔
وینس نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ‘ایپسٹین کے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کی اعلیٰ ترین سطحوں سے روابط تھے’۔
نائب صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل میں ایپسٹین کے روابط بظاہر بائیں بازو کے رجحان رکھنے والے حلقوں سے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ایپسٹین بظاہر اسرائیلی ڈیپ اسٹیٹ کے ان عناصر سے منسلک تھا جو بائیں بازو کا رجحان رکھتے تھے۔ مجھے یہ بات ہمیشہ دلچسپ لگی۔’
انٹرویو کے دوران وینس نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایپسٹین فائلز سے متعلق رابطہ کاری اور عوامی پیغام رسانی کو “یقیناً” غلط انداز میں سنبھالا۔
وینس نے سابق اٹارنی جنرل پام بونڈی پر بھی بات کی، جنہوں نے کہا تھا کہ ایپسٹین سے منسوب مبینہ کلائنٹ لسٹ ‘اس وقت میری میز پر موجود ہے۔’ وینس نے کہا کہ ‘میں پام کو جانتا ہوں، مجھے وہ پسند ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس میں کوئی بدنیتی تھی۔ میرے خیال میں پام اس سیاسی ماحول کا جواب دینے کی کوشش کر رہی تھیں۔ انہوں نے اس بارے میں کچھ زیادہ کہہ دیا کہ ہمارے پاس کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔’
وینس کے مطابق بونڈی کو اپنے بیانات پر عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس سے لوگوں میں ایپسٹین فائلز پر انتظامیہ کی شفافیت سے متعلق بداعتمادی پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے ایپسٹین فائلز کی کمیونیکیشن واقعی خراب طریقے سے سنبھالی۔ لیکن کیا مجھے لگتا ہے کہ ہم نے یہ اس لیے کیا کہ کچھ چھپانا چاہتے تھے؟ نہیں۔”