امریکی حکام دنیا کو اہتمام سے بتا رہے ہوتے ہیں کہ ایران کے مقتدر حلقے میں تقسیم بڑی گہری ہو چکی ہے اور عوام کی ایک بڑی اکثریت بھی اس جنگ سے تنگ آ چکی ہے لیکن اس پر کم ہی بات ہوتی ہے کہ کیا اس جنگ پر امریکہ کے اندر ہر سطح پر کامل اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور کیا امریکہ میں کسی سطح پر کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا؟
آئیے ذرا دیکھتے ہیں کہ امریکہ میں کیا صورت حال ہے اور مغربی ذرائع ابلاغ میں جو تھوڑا بہت رپورٹ ہو رہا ہے، اس (انتہائی تھوڑے بہت) کی روشنی میں حقائق کیا ہیں؟
1۔ عالم یہ ہے کہ 2024 کے الیکشن میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے ہر چار میں سے ایک امریکی ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کر رہا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد صدر کی کارکردگی کی عوامی منظوری تین فیصد سے زیادہ کم ہو کر صرف 40 فیصد رہ گئی، جبکہ ان کی ناپسندیدگی کی شرح بڑھ کر 57 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
2۔ نومبر 2024 میں ٹرمپ کو دوبارہ وائٹ ہاؤس پہنچانے والے اتحاد کے تین بڑے حصے تھے۔ پہلا، وہ ریپبلکن جو میگا (MAGA) تحریک کے حامی تھے۔ دوسرا، وہ ریپبلکن جو میگا سے وابستہ نہیں تھے۔ تیسرا، وہ غیر ریپبلکن ووٹر جو ٹرمپ کو متبادل امیدوار کے مقابلے میں بہتر سمجھتے تھے۔
تیسرے گروہ، یعنی آزاد خیال ووٹرز، ہسپانوی نژاد امریکیوں اور نوجوانوں کا ایک بڑا حصہ ایران کی جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ٹرمپ سے دور ہونا شروع ہو چکا تھا۔
غیر میگا ریپبلکنز ایران پر حملے کے فیصلے کے نسبتاً کم حامی ہیں۔ اس جنگ نے خود میگا تحریک کے اندر بھی تقسیم پیدا کر دی ہے۔
نائب صدر جے ڈی وینس، جن کی میگا نظریے سے وابستگی ٹرمپ کے مقابلے میں زیادہ نظریاتی سمجھی جاتی ہے، نے ایران کی جنگ شروع کرنے کی مخالفت کبھی نہیں چھپائی۔ تاہم جب صدر نے جنگ کا فیصلہ کر لیا تو انہیں اس کی حمایت کرنا پڑی۔
3۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے یہ الزام اختیار کیا ہے کہ اسرائیل نے ٹرمپ کو ایسی جنگ شروع کرنے پر آمادہ کیا جو امریکہ سے زیادہ اسرائیل کے مفادات کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ اس مؤقف نے پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں میں پہلے سے بڑھتے ہوئے اسرائیل مخالف جذبات کو مزید تقویت دی ہے، جو غزہ کی جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر واقعات کے باعث پہلے ہی شدت اختیار کر چکے تھے۔
4۔ جنگ کے آغاز کے فوراً بعد ہونے والے سرویز میں اوسطاً 48 فیصد امریکیوں نے جنگ کی مخالفت کی، جبکہ 43 فیصد اس کے حامی تھے۔ مئی میں ہونے والے سرویز کے مطابق جنگ کی مخالفت بڑھ کر اوسطاً 58 فیصد تک جا پہنچی، جبکہ اس کی حمایت صرف 38 فیصد رہ گئی۔
5۔ دس میں سے چھ سے زیادہ امریکی، جن میں تقریباً تمام ڈیموکریٹس اور 72 فیصد آزاد ووٹر شامل تھے، اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ صدر ٹرمپ کے پاس اس جنگ کے لیے کوئی واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔ تقریباً دو تہائی امریکیوں کا کہنا تھا کہ انتظامیہ جنگ کے مقاصد ہی واضح کرنے میں ناکام رہی ہے۔
6۔ مئی کے آغاز میں شکاگو کونسل آن گلوبل افیئرز کے سروے نے عوامی رائے کی مزید جامع تصویر پیش کی۔ اس وقت تک 86 فیصد امریکیوں کا خیال تھا کہ جنگ نے امریکہ میں مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی پر منفی اثر ڈالا ہے۔ 72 فیصد کے نزدیک اس نے امریکہ کے بین الاقوامی تعلقات اور عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا، جبکہ 65 فیصد نے اسے قومی سلامتی کے لیے بھی منفی قرار دیا۔ اکثریت کی رائے تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے خطے کے اتحادیوں سے مناسب مشاورت نہیں کی، شہری ہلاکتوں کو محدود رکھنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی اور نہ ہی مذاکرات کے ذریعے تنازع ختم کرنے کے لیے کافی اقدامات کیے۔ ایک بڑی تعداد نے اس جنگ کو ایسی تعطل زدہ کشمکش قرار دیا جس میں کسی بھی فریق کو فیصلہ کن برتری حاصل نہیں ہوئی۔ مزید یہ کہ بہت کم امریکیوں کو یقین تھا کہ ایران کسی ممکنہ معاہدے کی پابندی کرے گا۔ حیران کن طور پر 48 فیصد امریکی، جن میں 55 فیصد آزاد ووٹر شامل تھے، یہ اعتماد بھی نہیں رکھتے تھے کہ امریکہ خود کسی ایسے معاہدے کی پاسداری کرے گا۔
یہ نمونے کے طور پر پیش کیے گئے چند شواہد ہیں جو بروکنگز کے ماہرین اور مغربی اہل دانش کی تحریروں سے اخذ کیے گئے ہیں جن میں ولیم گاسٹن، جان ہڈسن اور رابرٹ کاگان جیسے لکھاری شامل ہیں لیکن پراپیگنڈے کی اس جنگ میں دنیا کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ایران میں بڑے اختلافات ہیں۔ امریکی انتظامیہ یہ نہیں بتاتی کہ اس کے اپنے گھر کیا صورت حال ہے۔