بھارت کی ریاست تمل ناڈو کے ضلع کرُر میں اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے کے جلسے میں بھگدڑ مچ گئی۔ اس افسوسناک واقعے میں کم از کم 40 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جلسے میں موجود ہزاروں افراد اچانک اسٹیج کی طرف بڑھنے لگے۔
حکام کے مطابق ہجوم کے بے قابو ہونے کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے پر گرنے لگے جس کے نتیجے میں کئی افراد دم گھٹنے اور دبنے سے ہلاک ہوگئے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
حادثے کے بعد حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں میں ایک دوسرے پر الزام تراشی شروع ہوگئی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے پولیس کی مناسب نفری تعینات نہیں کی جبکہ پولیس نے الزام لگایا کہ وجے کی جماعت نے ہجوم کی اصل تعداد کو کم سمجھا اور حفاظتی انتظامات ناکافی تھے۔
وجے، جنہیں جنوبی بھارت میں سپر اسٹار کے طور پر جانا جاتا ہے، نے کئی دہائیوں تک فلمی دنیا میں کام کیا اور درجنوں کامیاب فلمیں دیں۔ گزشتہ سال انہوں نے سیاست میں قدم رکھتے ہوئے اپنی جماعت تملگا ویٹری کژگم بنائی اور اعلان کیا کہ ان کی فلم جنا نائیکن ان کا آخری پروجیکٹ ہوگا۔
وجے کے جلسے ہمیشہ بڑی تعداد میں عوام کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں لیکن اس حادثے کے بعد ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ انہوں نے فوری طور پر متاثرہ خاندانوں سے ملاقات نہیں کی۔ تاہم انہوں نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور متاثرین کے لیے مالی مدد کا اعلان کیا ہے۔
ریاستی حکومت نے حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کر دیا ہے جبکہ وجے کی جماعت نے عدالت عالیہ سے وفاقی سطح پر انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سانحہ وجے کی مقبولیت اور ان کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔