بی ڈی ایس تحریک سے تعلق کا شبہ، اسرائیل نے عالمی امدادی تنظیموں اور این جی اوز کی نگرانی کیسے کی؟

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک سرکاری دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل نے 2013 میں دنیا کی کئی معروف امدادی تنظیموں سے متعلق معلومات جمع کیں اور بعض اداروں کو اسرائیل کے ناقد بی ڈی ایس مہم سے وابستہ قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ دستاویز ایک اسپریڈ شیٹ کی شکل میں تھی، جس میں 150 سے زائد این جی اوز کے نام، اس وقت کے ڈائریکٹرز، پتے، ٹیلی فون نمبرز، ای میلز اور کام کے شعبے درج تھے۔ دستاویز کے “تبصرہ” والے خانے میں 15 تنظیموں کے بارے میں خاص نوٹ شامل تھے۔

فرانس کی تنظیم پریمیئر ارجنس انٹرنیشنل کو “اسرائیل کی ناقد” کہا گیا، جنیوا میں قائم ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل کو “اسرائیل مخالف مہم میں شامل” قرار دیا گیا، جبکہ اسپین کی تنظیم منڈوبات کو “بی ڈی ایس میں بہت سرگرم” لکھا گیا۔

بی ڈی ایس سے مراد بائیکاٹ، سرمایہ کاری واپس لینے اور پابندیوں کی وہ مہم ہے، جو فلسطینی حقوق کے حامی گروپ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے چلاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دستاویز میں آکسفیم کے بارے میں بھی لکھا گیا کہ وہ عالمی بی ڈی ایس کوششوں میں سرگرم ہے۔ آکسفیم نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ تبصرے حقائق کے بجائے الزامات اور تشریحات معلوم ہوتے ہیں۔
تنظیم نے کہا کہ وہ بی ڈی ایس تحریک کی حمایت یا تشہیر نہیں کرتی، تاہم وہ عالمی قانون کی پاسداری کرتی ہے اور اس کے مطابق اسرائیلی بستیوں کو عالمی انسانی قانون کی خلاف ورزی سمجھتی ہے۔

اسرائیلی تنظیم گیشا کی سربراہ تانیا ہاری نے کہا کہ اس دستاویز کا سکیورٹی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیلی حکومت کئی برسوں سے فلسطینیوں کے لیے امدادی کام کرنے والی تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھتی رہی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق یہ اسپریڈ شیٹ اسرائیل کی وزارت بہبود اور سماجی امور کی ویب سائٹ کے ذریعے حاصل کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق دستاویز میں کئی تبصروں کا ماخذ این جی او مانیٹر نامی اسرائیلی ادارہ بتایا گیا ہے، جو خود کو غیر جانبدار تحقیقی ادارہ کہتا ہے۔ تاہم ناقدین کے مطابق یہ ادارہ فلسطین کے حق میں کام کرنے والے افراد اور تنظیموں کی نگرانی کرتا ہے۔

کنگز کالج لندن کی استاد میسون سکاریہ کے مطابق 2013 وہ وقت تھا جب اسرائیل بی ڈی ایس تحریک کے اثرات محسوس کر رہا تھا۔ اسی سال معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ نے فلسطین پر قبضے کے خلاف اسرائیل میں ایک کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا، کئی طلبہ تنظیموں نے تعلیمی بائیکاٹ کی حمایت کی، اور کینیڈا کے ایک بڑے چرچ نے اسرائیلی بستیوں میں بنی مصنوعات کے خلاف مہم شروع کی۔

ماہرین کے مطابق یہ دستاویز دکھاتی ہے کہ اسرائیل نے بی ڈی ایس سے متعلق تنظیموں کی نگرانی کا طریقہ کیسے بنایا، جس کے چند سال بعد 2017 میں اسرائیل نے بی ڈی ایس کے حامیوں کے داخلے پر پابندی کا قانون منظور کیا۔

یورپی لیگل سپورٹ سینٹر کے سربراہ جیووانی فاسینا نے کہا کہ اسرائیل طویل عرصے سے ایسے گروپس اور افراد کی فہرستیں بناتا رہا ہے جو بی ڈی ایس یا فلسطینی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دستاویز میں میڈیکل ایڈ فار فلسطین، نارویجن ریفیوجی کونسل، ڈن چرچ ایڈ، میڈیکو انٹرنیشنل، ورلڈ وژن انٹرنیشنل اور سویڈن کی فلسطین سالیڈیرٹی ایسوسی ایشن سمیت کئی تنظیموں کا ذکر شامل تھا۔

میڈیکو انٹرنیشنل کے نمائندے ریاض عثمان نے الجزیرہ کو بتایا کہ ان کی تنظیم نے بی ڈی ایس کی حمایت نہیں کی، مگر افراد اور گروپس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرنے کے حق کا دفاع کیا ہے۔

سویڈن کی فلسطین سالیڈیرٹی ایسوسی ایشن نے کہا کہ اسرائیلی حکام فلسطینی کاز کی حمایت کرنے والے نیٹ ورکس کی نگرانی کرتے رہے ہیں اور خاص طور پر بی ڈی ایس کو ایک اسٹریٹجک خطرہ سمجھتے ہیں۔

تنظیم نے کہا کہ وہ بی ڈی ایس میں سرگرم رہی ہے اور اسے فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے مؤثر حکمت عملی سمجھتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ کے دوران اسرائیل اور عالمی امدادی تنظیموں کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے۔ فلسطینی صحت حکام کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی حکام نے امدادی اداروں پر غزہ میں امداد پہنچانے سے متعلق پابندیاں سخت کیں، غیر ملکی امدادی کارکنوں اور ڈاکٹروں کے داخلے کو محدود کیا، اور 37 این جی اوز سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں کام جاری رکھنے کے لیے اپنے فلسطینی عملے کی ذاتی تفصیلات فراہم کریں۔

اپنا تبصرہ لکھیں