دبئی حکومت اُن رہائشیوں کو 800 ڈالر سے زائد مالیت کی رعایتیں اور سہولتیں فراہم کرے گی، جو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو شہر کی سیر کے لیے بلائیں گے، کیونکہ گزشتہ چند ماہ سے جاری جنگ نے دبئی کے سیاحتی شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
دبئی میڈیا آفس نے ایکس پر جاری کردہ اپنی پوسٹ میں کہا، ’’دبئی ڈیپارٹمنٹ آف اکانومی اینڈ ٹورازم نے ’اے دبئی انوائٹ‘ منصوبے کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت رہائشیوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو دبئی مدعو کر کے شہر کے سفیر بنیں۔‘‘
دبئی حکومت کی ویب سائٹ کے مطابق، وہ رہائشی، جو 20 جولائی سے 31 اکتوبر کے دوران اپنے دوستوں اور اہل خانہ کو مدعو کرنا چاہتے ہیں، وہ 3000 درہم سے زائد مالیت کے فوائد حاصل کر سکتے ہیں، جن میں ہوٹل میں قیام، کھانے پینے کی سہولتیں، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات شامل ہیں۔
متحدہ عرب امارات کو ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کی شدید زد کا سامنا رہا، جن کا نشانہ ہوٹل بھی بنے، جن میں پام جمیرہ پر واقع ہوٹل اور معروف برج العرب ریزورٹ شامل ہیں، جس کے نتیجے میں موسم سرما کے عروج کے سیزن میں سیاح شہر سے فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔
آٹھ اپریل کو غیر مستحکم جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے کچھ سیاحوں کی آمد ضرور ہوئی ہے، تاہم اب ہوٹل زیادہ تر مقامی مہمانوں پر انحصار کر رہے ہیں۔
مئی میں دبئی حکومت نے 40 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے اقتصادی پیکج کی منظوری دی تاکہ ان کاروباروں کی مدد کی جا سکے، جو جنگ کے بعد کے اثرات اور آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے عائد ناکہ بندی سے نمٹنے میں دشواری کا سامنا کر رہے تھے۔