افغانستان میں 49 لاکھ ماؤں اور بچوں کو غذائی مدد کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں تقریباً 49 لاکھ ماؤں اور بچوں کو غذائی مدد کی ضرورت ہے، جبکہ بروقت اقدامات لاکھوں زندگیاں بچا سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر، اوچا کے مطابق افغانستان میں لاکھوں مائیں غذائی قلت کے خطرے کے باوجود اپنے بچوں کی صحت اور مستقبل بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اوچا کا کہنا ہے کہ ماؤں اور بچوں کی فوری مدد ضروری ہے، ورنہ افغانستان میں غذائی قلت کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غذائی قلت کی روک تھام اور علاج کے پروگرامز میں سرمایہ کاری نہ صرف زندگیاں بچا سکتی ہے بلکہ صحت کے اخراجات کم کرنے، معیشت کو سہارا دینے اور آنے والی نسلوں میں غذائی قلت کے سلسلے کو توڑنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق افغانستان میں اس سال 5 سال سے کم عمر 37 لاکھ بچے خطرے میں ہیں۔

دوسری جانب ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے کہا ہے کہ جنوبی افغانستان میں شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایم ایس ایف کے مطابق سال 2026 کے پہلے 4 ماہ کے دوران اس کے تعاون سے چلنے والے علاج مراکز میں داخل ہونے والے شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کی تعداد گزشتہ 3 برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں اوسطاً 30 فیصد سے زیادہ رہی۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی امداد میں کمی بھی افغانستان کے غذائی بحران کو مزید خراب کرنے والے عوامل میں شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان میں غربت، بے روزگاری، خوراک کی کمی، صحت سہولتوں تک محدود رسائی اور امدادی فنڈنگ میں کمی نے ماؤں اور بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر غذائی مدد، علاج، صاف پانی، صحت سہولتوں اور ماں بچے کی دیکھ بھال کے پروگرامز کو فوری طور پر مضبوط نہ کیا گیا تو بچوں کی اموات، کمزوری اور نشوونما کے مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں ماؤں اور بچوں کے لیے غذائی پروگرامز کو فوری مدد فراہم کی جائے، تاکہ غذائی قلت کا بحران مزید انسانی المیے میں تبدیل نہ ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں