مودی حکومت طلبہ کے بھرپور احتجاج کے باوجود وزیر تعلیم کو عہدے سے کیوں نہیں ہٹا رہی؟

بھارت میں ہزاروں نوجوان اور طلبہ گزشتہ کئی ہفتوں سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت اب تک اس مطالبے کو قبول کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے شروع ہونے والی نوجوانوں کی یہ تحریک امتحانی پرچوں کے مسلسل لیک ہونے، تعلیمی نظام میں مبینہ بدانتظامی اور طلبہ کے مستقبل کو پہنچنے والے نقصان کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق نئی دہلی میں جاری مظاہرے مودی حکومت کی تیسری مدت کے دوران اب تک کا سب سے بڑا عوامی چیلنج بن چکے ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا، جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت میں آواز اٹھائی۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹایا جائے، امتحانی نظام میں اصلاحات کی جائیں اور پرچوں کے لیک ہونے سے متاثرہ طلبہ کو انصاف دیا جائے۔ الجزیرہ کے تجزیے کے مطابق دھرمیندر پردھان کو نہ ہٹانا مودی حکومت کے لیے کوئی غیر معمولی بات نہیں، بلکہ یہ گزشتہ 12 برس کے ایک سیاسی انداز کا حصہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے ماضی میں بھی کئی بڑے تنازعات کے باوجود وزراء کو عوامی دباؤ پر فوری طور پر عہدوں سے نہیں ہٹایا۔

2015 میں اتر پردیش کے دادری علاقے میں محمد اخلاق نامی ایک مسلمان شخص کو گائے کا گوشت رکھنے کے شبہے میں ہجوم نے قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد اس وقت کے وزیر ثقافت مہیش شرما پر شدید تنقید ہوئی، کیونکہ انہوں نے قتل کو “حادثہ” قرار دیا تھا۔ مسلم تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا، مگر وہ مودی کابینہ کا حصہ رہے۔

بعد میں مہیش شرما نے اخلاق قتل کیس کے ایک ملزم کے گھر بھی گئے، جس پر دوبارہ شدید تنقید ہوئی، مگر انہیں فوری طور پر عہدے سے نہیں ہٹایا گیا۔

2016 میں حیدرآباد یونیورسٹی کے دلت طالب علم روہت ویمولا کی موت کے بعد بھی اس وقت کی وزیر اسمرتی ایرانی اور بندارو دتاتریہ سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ روہت ویمولا اور ان کے ساتھیوں کو یونیورسٹی ہاسٹل سے نکالے جانے اور وظیفہ روکنے کے بعد ملک بھر میں طلبہ احتجاج شروع ہوئے تھے۔

مظاہرین کا الزام تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ پر وفاقی وزراء کے خطوط کا دباؤ تھا، مگر اسمرتی ایرانی اور بندارو دتاتریہ دونوں مودی حکومت کا حصہ رہے۔

2021 میں لکھیم پور کھیری واقعے کے بعد بھی جونیئر وزیر داخلہ اجے مشرا ٹینی کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کے بیٹے آشیش مشرا پر کسان مظاہرین پر گاڑی چڑھانے کا الزام لگا تھا، جس میں 4 کسان اور ایک صحافی مارے گئے تھے۔

اس واقعے کے باوجود اجے مشرا ٹینی اپنے عہدے پر برقرار رہے اور 2024 کے عام انتخابات میں شکست تک حکومت کا حصہ رہے۔

الجزیرہ کے مطابق مودی حکومت میں عوامی دباؤ کے بعد کسی وزیر کے استعفے کی نمایاں مثال کورونا وبا کی دوسری شدید لہر کے بعد سامنے آئی، جب وزیر صحت ہرش وردھن نے عہدہ چھوڑا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مودی حکومت عوامی احتجاج یا اپوزیشن کے دباؤ کو وزیر کی برطرفی کی بنیاد نہیں بنانا چاہتی۔ حکومت کے حامیوں کے نزدیک ایسا کرنا سیاسی دباؤ کے سامنے جھکنے کے مترادف ہو سکتا ہے، جبکہ مخالفین اسے احتساب سے گریز قرار دیتے ہیں۔

دھرمیندر پردھان کے معاملے میں بھی یہی سوال سامنے آ رہا ہے کہ آیا امتحانی بحران کی سیاسی ذمہ داری کسی وزیر پر عائد کی جائے گی یا حکومت اس معاملے کو انتظامی اصلاحات تک محدود رکھے گی۔

طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ پرچوں کے لیک ہونے سے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہوا ہے اور صرف تحقیقات یا یقین دہانیوں سے اعتماد بحال نہیں ہوگا۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے اب تک ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا کہ وزیر تعلیم کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں