ذبیح اللہ بلگن
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ انہوں نے پاکستان آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو دوسرا خط بھی لکھ دیا ہے ۔ جس میں آرمی چیف کو جیل کے حالات کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے ۔ بیان کیا جا رہا ہے کہ عمران خان نے خط میں آرمی چیف کو بتایا ہے کہ انہیں جیل میں ناکافی سہولیات فراہم کی گئی ہیں جس کی وجہ سے انہیں جیل میں مشکلات کا سامنا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے بارے میں یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ انہوں نے پاکستان آرمی چیف کو یہ بتایا ہے کہ انہیں جیل میں اس طرح سے رکھا گیا ہے کہ انہوں نے کئی دن تک سورج بھی نہیں دیکھا۔
دوسری جانب آزادانہ ذرائع اس بات کی تصدیق نہیں کرتے کہ عمران خان نے جو پہلا خط لکھا تھا وہ لکھا بھی گیا ہے کہ نہیں ؟ ۔ کیونکہ پاکستان آرمی کے ذرائع نے عمران خان کی جانب سے کسی ایسے خط کو وصول کرنے کی تصدیق نہیں کی جو عمران خان نے مبینہ طور پر جیل سے لکھا ہے ۔ کیونکہ آرمی ذرائع نے واضح انداز میں میڈیا کو بتایاہے کہ انہیں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے جانب سے کوئی خط موصول نہیں ہوا۔ اسی طرح جیل ذرائع کا بھی یہ کہنا ہے کہ جیل سے جب کوئی قیدی باہر خط لکھتا ہے تو اس کے ایس او پیز ہیں اور جیل سے باہر خط بھیجنے کے کچھ پروٹوکولز اور طریقے کار ہیں۔ جیل انتظامیہ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کی جانب سے لکھے گئے خط کے حوالے سے ایسا کوئی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا ۔
روزنامہ جنگ کے رپورٹر صالح ضافرنے اڈیالہ جیل کے سپریڈنٹنٹ عبدالغفور انجم کا انٹرویو کیا ہے ۔ اس انٹرویو میں انہوں نے اڈیالا جیل کے سپریڈنٹنٹ سے یہ پوچھا کہ کیا واقعی عمران خان نے آرمی چیف کو خط لکھا ہے ۔ جس پر سپریڈنٹنٹ جیل نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ عبدالغفور انجم کے مطابق جب کوئی قیدی جیل سے باہر خط لکھتا ہے تو وہ پہلے جیل انتظامیہ سے کاغذ اور قلم مانگتا ہے ۔ اور جب وہ خط تحریرکر لیتا ہے تو پھر وہ خط باہر جانے سے پہلے جیل انتظامیہ پڑھتی ہے اور اگر ضروری ہو تو سنسر بھی کرتی ہے ۔
جیل کے SOPs کے مطابق اس طرح کرنا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ کہیں کوئی قیدی جیل کے اندر سے کوئی ایسی معلومات باہر نہ بھیجے جس سے اس کے فرار کا راستہ ہموار ہو سکے یا وہ کوئی وطن دشمن معلومات ہوں ۔کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ اندیشہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں قیدی نے خط میں جیل کا نقشہ یا کوئی خفیہ معلومات تو باہر نہیں بھیج دیں ۔ اس لیے جیل انتظامیہ باہر جانے والے ہر خط کوپڑھتی ہے اور اگر ضروری سمجھے تو سنسر بھی کر دیتی ہے ۔ جبکہ عمران خان کے بارے میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا نہ انہوں نے ہم سے قلم اور کاغذ مانگا ہے اور نہ ہی انہوں نے کوئی خط جیل سے باہر بھیجا ہے۔
قارئین ! پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے آرمی چیف کو خط لکھنے کی ایک دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ان سے ملاقات کے لیے جو وکلاء یا پارٹی قیادت آتی ہے، وہ ان کو اپنے خیالات سے آگاہ کریں اور انہیں کہیں کہ وہ آرمی چیف کو ان کی جانب سے یہ خط بھیج دیں ۔ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ پاک فوج نے ایسے کسی خط کے وصول ہونے کی تردید کی ہے ۔یہ ایک مبہم صورتحال ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ خط لکھا گیا ہے جبکہ آرمی ذرائع یہ کہتے ہیں کہ انہیں کوئی خط موصول نہیں ہوا ۔ لہٰذا اس بات کو ثابت کرنا پاکستان تحریک انصاف کے لیے مشکل ہو رہا ہے کہ کیا کوئی خط لکھا بھی گیا ہے کے نہیں ۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ عمران خان کی جانب سے خط لکھا گیا ہے تو اس کے پاکستان تحریک انصاف یا پاکستانی سیاست پر ممکنہ اثرات کیا ہوسکتے ہیں ؟ موجودہ صورتحال کے تناظر میں اس کا جواب یہی سامنے آتا ہے کہ ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کے آثار بتا رہے ہیں کہ ان کے پاس پاکستان تحریک انصاف یا اس کے سربراہ کیلئے کسی قسم کا نرم گوشہ موجود نہیں ۔ جہاں تک پاکستانی سیاست پر اثرات مرتب ہونے کا زکر ہے ، ایسا بھی کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ۔ جو خط وصول کرنے کی تصدیق نہیں کر رہے وہ خط میں موجود متن کو کہاں تسلیم کریں گے۔