پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے دفاعی تعاون اور اجتماعی دفاعی صلاحیت میں اضافے کرنے کے لیے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
جمعے کے روز وزیراعظم پاکستان، ترک صدر رجب طیب ایردوان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” پر دستخط کیے۔ معاہدے کے مطابق کسی بھی ایک فریق پر مسلح حملہ تینوں فریقین کے خلاف مسلح حملہ تصور کیا جائے گا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ معاہدہ خطے میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کا نتیجہ ہے۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال انتہائی کشیدہ رہی ہے۔ اسرائیل نے غزہ اور لبنان میں طویل عرصے تک حملے کیے، جن میں ہزاروں شہری جان سے گئے۔
مئی 2025 میں پہلگام حملے کے بعد دو ایٹمی ممالک پاکستان اور انڈیا کے درمیان شدید فضائی جھڑپوں نے بھی علاقائی امن کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
جون 2025 سے اب تک ایران اور امریکا دو دفعہ ایران کے خلاف جنگ چھیڑ چکے ہیں، جبکہ روس اور یوکرین جنگ اب بھی جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال نے کئی ممالک کے لیے سیکیورٹی چیلنجز میں اضافہ کر دیا ہے اور اب ان ممالک کو اپنی سیکیورٹی کے لیے ضمانت چاہیے۔
ایسے میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے سے ان ممالک کو کیا فائدہ ہوگا؟
28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی گئی امریکی و اسرائیلی جنگ سعودی عرب سمیت کئی ممالک تک پھیل گئی۔ ایران نے ‘حق دفاع’ کے تحت خطے کے ممالک میں موجود امریکی تنصیبات پر حملے کیے، جن کو علاقائی ممالک نے اپنی سلامتی اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب اس معاہدے کو اپنی سلامتی کے لیے اہم سمجھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں پاکستان کا روایتی حریف انڈیا موجود ہے۔ اس لیے پاکستان بھی اس معاہدے کے ذریعے انڈیا سے کسی بھی مہم جوئی کے دوران دوستی ممالک کی حمایت چاہتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی رہنما ایران کے بعد اب ترکیہ کو مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ترکیہ اس معاہدے کے ذریعے اپنی سلامتی کو درپیش خطرات کے خلاف اجتماعی دفاع مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
پاکستان دنیا کا واحد ایٹمی اسلامی ملک ہے، ترکیہ کے پاس نیٹو اتحاد کی دوسری بڑی طاقتور فوج ہے جبکہ سعودی عرب معاشی لحاظ سے خلیج خطے کی بڑی طاقت ہے۔ ماہرین اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کو خطے سمیت عالمی امن کے لیے ایک نہایت اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔