مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، کیا مشرق وسطیٰ میں امریکی کردار پر اثر پڑے گا؟

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے بعد خطے کے بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں امریکی اثر و رسوخ کم کرنے کے لیے علاقائی ممالک کی جانب سے ایک اضافی سکیورٹی راستہ تلاش کرنے کی کوشش ہے۔

معاہدے پر 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں دستخط کیے گئے، جس کے تحت تینوں ممالک نے دفاعی تعاون بڑھانے اور کسی ایک ملک پر حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی، خاص طور پر ایران جنگ کے بعد، مشرق وسطیٰ کے ممالک میں امریکی سکیورٹی ضمانتوں کے بارے میں سوالات اٹھ گئے ہیں اور وہ اپنے دفاعی تعلقات کو مزید متنوع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رائس یونیورسٹی کے ماہر کرسچن کوٹس الرچسن نے الجزیرہ کو بتایا کہ نئے دفاعی معاہدے کا مقصد امریکا کی جگہ لینا نہیں بلکہ ممالک کو مزید اسٹریٹجک اور پالیسی آپشنز فراہم کرنا ہے۔

تجزیہ کار سینا توسی کے مطابق یہ معاہدہ اس بات کی علامت ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سکیورٹی حکمت عملی پر دوبارہ غور کر رہے ہیں، خاص طور پر سعودی عرب واشنگٹن پر مکمل انحصار کے بجائے دیگر شراکت داریاں بھی بڑھا رہا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان تینوں امریکا کے شراکت دار ہیں اور کوئی بھی نیا دفاعی فریم ورک امریکا کے کردار کی مکمل جگہ نہیں لے سکتا۔

تجزیہ کار یاسمین فاروق کے مطابق اس معاہدے کو ایران کے خلاف محاذ آرائی کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ تینوں ممالک عمومی طور پر کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ فوری فوجی اتحاد سے زیادہ علاقائی تعاون، مشترکہ دفاعی صلاحیتوں اور مستقبل کے سکیورٹی نظام کی تشکیل کی جانب ایک قدم ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں