بینک میں محفوظ صارفین کا ڈیٹا قانونی طور پر ’پراپرٹی‘ کی تعریف میں آتا ہے، اس کا غلط استعمال جرم بن سکتا ہے، لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ بینک کے پاس موجود صارفین کا ڈیٹا قانون کے تحت ’پراپرٹی‘ شمار ہوتا ہے اور اس کا غلط استعمال امانت میں خیانت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایک کروڑ روپے سے زائد کے مبینہ سم سویپ فراڈ کیس میں یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ٹیلی کام فرنچائز آپریٹر کو بعد از گرفتاری ضمانت دے دی، تاہم نجی بینک کے ایک ملازم کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔

یہ مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، این سی سی آئی اے کی جانب سے درج کیا گیا تھا جس میں الزام تھا کہ متاثرین کے شناختی کارڈ اور فنگر پرنٹس استعمال کرکے جعلی ڈپلیکیٹ سم جاری کیے گئے اور نجی بینک کے 6 صارفین کے اکاؤنٹس سے مجموعی طور پر ایک کروڑ 4 لاکھ 50 ہزار روپے غیر مجاز طور پر منتقل کیے گئے۔

عدالت نے کہا کہ بینکوں کے پاس موجود صارفین کی معلومات، جن میں اکاؤنٹ کی تفصیلات اور رجسٹرڈ موبائل نمبر شامل ہیں، پیکا کے تحت ’ڈیٹا‘ کی تعریف میں آتی ہیں اور قانون ایسے ڈیٹا کو ‘پراپرٹی’ تصور کرتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی بینک ملازم کے پاس صارف کا ڈیٹا امانت کے طور پر ہو اور وہ اسے کسی فراڈ میں بددیانتی سے ظاہر یا استعمال کرے تو یہ امانت میں خیانت بن سکتی ہے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ بینک کا ہر ملازم خودکار طور پر فوجداری قانون کی دفعہ 409 کے دائرے میں نہیں آتا۔ یہ دفعہ صرف اس صورت میں لاگو ہوگی جب ملازم اپنے فرائض کے دوران صارف کے پیسے یا ایسے اہم ڈیٹا پر اختیار رکھتا ہو جو اکاؤنٹ تک رسائی، تصدیق یا بینکاری لین دین کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

بینک ملازم محمد عاطف کے بارے میں عدالت نے کہا کہ تفتیشی ریکارڈ، بینک کی داخلی فراڈ رپورٹس اور اکاؤنٹ رسائی لاگز میں ان کے خلاف بادی النظر میں کافی مواد موجود ہے۔ ان پر صارفین کے رجسٹرڈ موبائل نمبرز فراہم کرنے کا الزام تھا، جس سے مبینہ سم سویپ فراڈ میں مدد ملی۔ عدالت نے محمد عاطف کی ضمانت مسترد کر دی۔

دوسرے ملزم محمد عثمان کے بارے میں عدالت نے کہا کہ دستیاب شواہد انہیں متنازع سم ایکٹیویشن، بائیومیٹرک تصدیقی نظام میں مبینہ ردوبدل یا بینکنگ ڈیٹا کے غلط استعمال سے واضح طور پر نہیں جوڑتے۔ عدالت نے ان کے خلاف الزام کو مزید تحقیقات کا متقاضی قرار دیتے ہوئے 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی۔

اپنا تبصرہ لکھیں