روزے کے دوران جسم میں پانی کی کمی ایک مسئلہ ہے خاص طور پر ان افراد کے لیے جو دن بھر سفر کرتے ہیں یا کھلے آسمان تلے کام کرتے ہیں۔ ایسے میں سارا دن پیاس سے محفوظ رہنے اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے کے لیے صحیح حکمتِ عملی اپنانا نہایت ضروری ہے۔
پبلک ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر سلیمان اوٹھو نے روزے میں ڈی ہائیڈریشن سے بچاؤ کے عملی اور مؤثر طریقے بتائے ہوئے کہا کہ افطار سے سحری کے درمیان کم از کم ڈیڑھ سے دو لیٹر پانی پینا ضروری ہے تاکہ جسم دن بھر پانی کی کمی کا شکار نہ ہو۔
ڈاکٹر اوٹھو نے مشورہ دیا کہ سحر و افطار میں ایسی غذائیں شامل کی جائیں جو نہ صرف جسم کو تقویت فراہم کریں بلکہ ہائیڈریٹ بھی رکھیں۔ ان کے مطابق لسی اور او آر ایس کا استعمال بے حد مفید ہے، کیونکہ یہ پانی کی مقدار بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تربوز اور دیگر آبی پھل جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ البتہ، ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ کھانے کے بعد پھل کھاتے ہیں، جو ایک غلط عادت ہے۔ فروٹ کھانے کا درست وقت کھانے سے پہلے ہوتا ہے تاکہ جسم کو بہتر طریقے سے غذائیت حاصل ہو سکے۔
ڈاکٹر اوٹھو کے مطابق ڈی ہائیڈریشن کی ایک نمایاں علامت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بیٹھے بیٹھے اچانک کھڑا ہو تو اس کا سر چکرانے لگے یا غشی محسوس ہو۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے خون کا دباؤ اور حجم کم ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ، اگر کوئی شخص مسلسل سردرد کی شکایت کرے یا باوجود مناسب نیند کے دن بھر تھکن اور سستی محسوس کرے، تو یہ بھی ممکنہ طور پر ڈی ہائیڈریشن کی علامات ہوسکتی ہیں۔
ڈاکٹر اوٹھو نے خبردار کیا کہ اگر دن میں غیر معمولی تھکن محسوس ہو تو سب سے پہلے پانی پینا چاہیے، کیونکہ جسم میں پانی کی سطح گرنے سے توانائی بھی کم ہو جاتی ہے۔ اگر پانی پینے کے بعد بھی شکایت برقرار رہے تو فوری طور پر معالج سے رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ مسلسل تھکن اور کمزوری کسی دوسرے طبی عارضے کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔
رمضان المبارک میں پانی کی مناسب مقدار کا استعمال نہ صرف جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ دن بھر توانائی بھی بحال رکھتا ہے۔ افطار سے سحری کے درمیان پانی، لسی، او آر ایس اور آبی پھلوں کو خوراک کا حصہ بنانے سے روزے کے دوران پیاس کی شدت کو کم کیا جاسکتا ہے اور صحت مند طرزِ زندگی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔