اسقاطِ حمل کے بعد ہسپتال میں ‘چار دن جہنم’ جیسے گزرے: انگلش فٹبالر مسی بوکیرنز

انگلینڈ کی خاتون فٹبالر مسی بو کیرنز نے انکشاف کیا ہے کہ اسقاط حمل اور سیپسس جیسے خطرناک انفیکشن کا شکار ہونے کے بعد انہوں نے ہسپتال میں ‘چار دن جہنم’ جیسے گزارے۔

آسٹن ولا ویمن کی مڈفیلڈر کیرنز اور ان کے ساتھی فٹبالر لیام والش نے یکم مارچ کو حمل کی خوشخبری دی تھی، تاہم اسی ماہ کے آخر میں وہ اپنے بچے سے محروم ہو گئیں۔

کیرنز نے بتایا کہ 18 مارچ کو وہ کلب کے ٹریننگ گراؤنڈ پر اچانک طبیعت خراب ہونے کے بعد ڈاکٹر کے پاس گئیں، جہاں ان کا درجہ حرارت 42 ڈگری تک پہنچ چکا تھا۔ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں معلوم ہوا کہ نہ صرف حمل ضائع ہو چکا ہے بلکہ وہ سیپسس میں بھی مبتلا ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا،’یہ میری زندگی کے سب سے بڑے صدموں میں سے ایک تھا، میں ایک گھنٹہ پہلے تک جم اور ورزش کر رہی تھی اور پھر اچانک سب کچھ بدل گیا۔’

کیرنز نے کلب کی ڈاکٹر جوڈی بلیک ایڈر وائن اسٹائن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ انہیں ہسپتال جانے پر مجبور نہ کرتیں تو شاید ان کی جان بچانا ممکن نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا، ‘ہم دونوں نے ہسپتال میں تین سے چار دن بہت مشکل گزارے، اس دوران میں سیپسس کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہی تھی، بس یہی خیال تھا کہ ہم نے اپنا بچہ کھو دیا ہے۔’

کیرنز کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اس ذہنی صدمے سے مکمل طور پر باہر نہیں آ سکیں اور بعض دن ان کے لیے بہت مشکل ہوتے ہیں، تاہم وہ دوبارہ فٹنس بحال کرنے کے لیے ٹریننگ کا آغاز کر چکی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے حالات میں خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیے اور مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔
کیرنز نے کہا کہ وہ اگلے سیزن میں میدان میں واپسی کی امید رکھتی ہیں اور آئندہ ورلڈ کپ اسکواڈ میں جگہ بنانا اب بھی ان کا ہدف ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں