افریقی ملک مالی میں متعدد حملے، دارالحکومت سمیت کئی شہروں میں مسلح افراد داخل ہوگئے

مغربی افریقی ملک مالی کے دارالحکومت باماکو سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہفتے کے روز مسلح حملوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے، جبکہ فوج نے شہریوں سے پُرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں بیک وقت حملے کیے گئے، جن میں باماکو کے قریب کاتی، ہوائی اڈے کے اطراف کے علاقے اور شمالی شہر موپتی، گاؤ اور کدال شامل ہیں۔ امریکی سفارت خانے نے بھی اپنے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق صبح سویرے دارالحکومت کے قریب فوجی اڈے کے نزدیک زور دار دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ کئی گھنٹوں تک ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کرتے رہے۔ بعض مقامی افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیرِ دفاع کے گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال اب قابو میں ہے، تاہم مختلف علاقوں میں تلاشی اور کارروائیاں جاری ہیں۔

ابھی تک کسی گروہ نے حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، لیکن سکیورٹی ذرائع کے مطابق القاعدہ سے منسلک شدت پسند عناصر اس میں ملوث ہو سکتے ہیں، جبکہ ایک علیحدگی پسند اتحاد نے شمالی علاقوں میں کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ حملے گزشتہ کئی برسوں میں سب سے بڑی مربوط کارروائیوں میں شمار ہو سکتے ہیں، جو ملک میں جاری شورش میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ مالی میں 2012 سے بدامنی جاری ہے جب شمالی علاقوں میں علیحدگی پسندوں اور شدت پسند گروہوں نے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ موجودہ فوجی حکومت، جو 2020 اور 2021 میں اقتدار میں آئی، اب تک مکمل امن قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

حالیہ مہینوں میں شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس میں ایندھن کی ترسیل کو نشانہ بنانا اور مختلف علاقوں میں حملے شامل ہیں، جس سے دارالحکومت سمیت کئی حصوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں