ایران امریکہ کشیدگی کا 59 واں روز، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اتوار کے روز پاکستان اور عمان کے دوروں کے بعد پیر کو روس پہنچ گئے، جہاں ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات متوقع ہے۔ روسی اور ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال سمیت ایران، امریکہ اور اسرائیل تنازع پر بات چیت ہو گی۔

عباس عراقچی نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے تحفظ اور بحری راستے سے محفوظ آمد و رفت کے لیے ماہرین کی سطح پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت “انتہائی تعمیری” رہی، جس میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حالات کا جائزہ بھی لیا گیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے بات کرنا چاہے تو رابطہ کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔

ادھر ایرانی انقلابی گارڈز نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنی “ڈیٹرنس پالیسی” جاری رکھیں گے اور اس اہم آبی گزرگاہ کو کھولنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ رہی، جہاں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 14 افراد جاں بحق ہو گئے۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحدی کشیدگی کے دوران دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں جنگ، سفارت کاری اور سکیورٹی خدشات ایک ساتھ جاری ہیں اور عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی کے لیے کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں