امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے سے متعلق ایک نئے عوامی سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اکثریت اس کی حمایت کرتی ہے، تاہم موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث اس کے امکانات فی الحال کم دکھائی دیتے ہیں۔
نیوز ویک کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک حالیہ سروے میں 55 فیصد افراد نے صدر کے مواخذے کی حمایت کی، جبکہ 37 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔ آزاد ووٹرز میں بھی نصف افراد مواخذے کے حق میں ہیں، جبکہ ریپبلکن ووٹرز کی اکثریت اس کے خلاف ہے، اگرچہ ان میں سے کچھ نے حمایت کا اظہار بھی کیا۔
سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ عوامی سطح پر مواخذے کی حمایت موجود ہے، لیکن عملی طور پر مواخذہ ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ایوانِ نمائندگان پر ریپبلکن جماعت کا کنٹرول ہے اور کسی بھی ریپبلکن رکن نے اب تک اس کی حمایت کا عندیہ نہیں دیاہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، مواخذے کا معاملہ آئندہ وسط مدتی انتخابات میں اہم موضوع بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر ڈیموکریٹک جماعت کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ تاہم اس کے باوجود سینیٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا، جو کسی بھی صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ضروری ہے۔
اعداد و شمار پر مبنی پیش گوئیوں کے مطابق، رواں سال کے دوران صدر ٹرمپ کے مواخذے کا امکان کم ہے، تاہم ان کی مدتِ صدارت کے اختتام سے پہلے اس امکان میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں ایران کے ساتھ کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے خدشات کے باعث ڈیموکریٹک ارکان کی جانب سے مواخذے کے مطالبات میں شدت آئی ہے۔