دیو بند، ہندتوا اور جناح کا پاکستان

ہندتوا شاؤنزم اسلامی تہذیب کے درپے ہے اور اس کا تازہ نشانہ دارالعلوم دیوبند ہے۔ ہندو انتہا پسندوں کا دعوی ہے کہ اس کے نیچے شیو لنگ موجود ہے۔ چنانچہ سیوم سیوکوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ بڑی تعداد میں دار العلوم پہنچیں گے اور اسے گنگا جل دیں گے۔

دارالعلوم دیوبند کے خلاف یہ شروعات ہیں، بابری مسجد کی شہادت سے شروع ہونے والا ہندو شاؤنزم کا یہ سلسلہ معلوم نہیں کہاں جا کر رکے گا۔ یہ کسی ایک مسجد یا کسی ایک دارالعلوم کے خلاف اٹھنے والی تحریک نہیں ہے، اس تحریک کا مقصد ہندوستان سے اسلامی تہذیب کے نقوش کو ختم کرنا ہے۔

گیان واپی کی قدیم مسجد کو کاشی وشواناتھ مندر قرار دے دیا گیا، متھرا کی شاہی عید گاہ کو ہندو بھگوان کرشن کی جایے پیدائش قرار دے ڈالا، شاہی مسجد سنبھل کے بارے میں دعوی کر دیا گیا کہ یہ ہری ہر مندر ہے، حد تو یہ ہے کہ 7 صدیاں قدیم مسجد کمال مولا کو بھی مدھیہ پردیشن کی ہائی کورٹ نے مندر قرار دے دیا ہے۔

قدیم مساجد کے حوالے سے سینکڑوں مقدمات بھارت کی نچلی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن میں ہندووں نے یہ دعوے کر رکھے ہیں کہ یہ سب مندر ہیں اور ہمارے حوالے کیے جائیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ قانونی اعتبار سے یہ مقدمے قابل سماعت ہی نہیں کیوں کہ بھارت میں قانون یہ ہے کہ جس عبادت گاہ کی جو حیثیت 15 اگست 1947 کو تھی اسے تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ لیکن اس کے باوجود سماعتیں بھی ہو رہی ہیں اور صدیوں قدیم مساجد کو مندر بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ایک طرف وندے ماترم کے مشرکانہ بول سب پر، قومی ترانے کا درجہ دے کر، مسلط کیے جا رہے ہیں اور دوسری جانب اسلامی تہپذیب کے مظاہر پر باری باری سنگ زنی کی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ تاج محل کا وجود بھی گوارا نہیں اور اسے بھی ہندو شاؤنزم نے مندر قرار دینا شروع کر دیا ہے۔

صہیونیت کی طرح ہندتوا بھی کسی دوسرے کے وجود کا قائل نہیں، یہ دونوں جڑواں تصور ہیں۔ دونوں میں نسل پرستی اور فاشزم قدر مشترک ہیں۔ دونوں اسلامی تہذیب کے درپے ہیں۔ صہیونیت نے مقبوضہ فلسطین میں اسلامی تہذیب کے نقوش مٹانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور ہندتوا یہی کام مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں کر رہا ہے۔

جس طرح مقبوضہ فلسطین میں بستیوں، عمارتوں، سڑکوں، گلیوں کو ڈی اسلامائز کیا گیا ہے اور ان کے نام بدل دیے گئے اور عبرانی زبان میں نئے نام رکھ لیے گئے ہیں بالکل اسی طرح کشمیر اور بھارت میں اسلامی کلچر و ثقافت کو سفرونائز کیا جا رہا ہے۔

قائداعظم نے ہندو شاؤنزم کا یہ روپ بہت پہلے دیکھ لیا تھا اور مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست قائم کروا لی۔ وہ جان چکے تھے کہ متحدہ ہندوستان میں ہندو شاؤنزم مسلمانوں کو برداشت نہیں کرے گا اور وہ دھیرے دھیرے اسلامی تہذیب کے نقوش کو ختم کرتا چلا جائے گا۔

کوئی مانے یا نہ مانے لیکن حقیقت یہی ہے کہ خود دیوبند کو ابوالکلام آزاد کے ہندوستان کی بجائے جناح کا پاکستان زیادہ راس آیا ہے۔

دیوبند کے مولاناؤں کو سیاسی حیثیت، مقام، رتبہ اور عزت بھی جناح کے پاکستان میں زیادہ ملی۔ مولانا فضل الرحمن اس کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ جو سیاست کے میدان میں گرجتے ہیں اور خوب گرجتے ہیں۔ ادھر ابوالکلام آزاد کے ہندوستان میں تو دیوبند کی آواز اس کے گلے میں گھٹ کر رہ گئی ہے۔ بھارت میں تو یہ ایسے ہو کر رہ گئے ہیں جیسے خواب میں واؤ معدولہ ہوتی ہے۔

جناح کے پاکستان میں یہ سیاست کا ایک بھرپور کردار ہیں، سیاست کی رونقیں ان کے بغیر ادھوری ہیں، ابوالکلام کے ہندوستان میں ان کا ایسا ناطقہ بند کیا گیا ہے کہ یہ سیاست سے ہی دست بردار ہو چکے ہیں۔

جناح کے پاکستان میں یہ احتجاج کرتے ہیں تو پورے آہنگ سے کرتے ہیں، ابوالکلام آزاد کے ہندوستان میں یہ معمولی سا اختلاف بھی بلند آواز سے نہیں کر پاتے۔

یہ جناح کے پاکستان کی پارلیمان ہے جہاں مولانا گفتگو کرتے ہیں تو دیوبند کا استدلال نظر آتا ہے، ابوالکلام کے ہندوستان کی پارلیمان تو دیوبند کے لیے علاقہ غیر بن چکی ہے۔ کوئی ایک دیوبند کا رہنما دکھا دیجیے جو بھارت کی پارلیمان میں موجود ہو۔

یہ جناح کا پاکستان ہی ہے جہاں شہیدوں پر بھی طعنہ اچھالا جائے تو برداشت کر لیا جاتا ہے۔ کبھی ابوالکلام کے ہندوستان میں سنگھ پریوار کے سیوم سیوکوں کے بارے میں بھی تو سہارن پور کا مولانا بول کر دکھائے۔ لگ پتہ جائے گا کہ آزادی رائے کتنے روپے کی پاؤ ملتی ہے۔

دیوبند بنیادی طور پر ایک سیاسی تحریک تھی اور اس کے قیام کی وجوہات بھی سیاسی تھیں۔ آج مگر عالم یہ ہے کہ دیوبند کا اپنا حلقہ بھی بی جے پی جیت جاتی ہے اور دارالعلوم کے اکابرین کے صاحبزادے عمیر مدنی صاحب کو صرف تین ہزار پانچ سو ایک ووٹ ملتے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 70 فیصد ہے۔ اس علاقے میں کھڑے ہو کر بی جے پی کا برجیش سنگھ کہتا ہے کہ ہم بہت جلد اس علاقے کا نام دیوبند سے بدل کر ’دیو ورند‘ رکھ دیں گے۔

مسلمانوں کی عبادت گاہیں، ان کا کلچر، ان کی ثقافت، ان کی تہذیبی یادداشت، سب ہندوتوا کے نشانے پر ہیں۔ یہ بالکل وہی صہیونی واردات ہے جو اسرائیل نے مقبوضہ فلسطین میں اختیار کر رکھی ہے۔ ہندوتوا کا اصل چہرہ بھارت کے سیکولر نقاب کے پیچھے ہے۔ نقاب ہٹا کر دیکھیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں