اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو نے کہا ہے کہ افغانستان میں تقریباً 24 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں، جبکہ موجودہ پابندیاں برقرار رہنے کی صورت میں یہ تعداد 2030 تک 40 لاکھ کے قریب پہنچ سکتی ہے۔
یونیسکو کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید 2 لاکھ لڑکیاں ثانوی تعلیم سے باہر ہوئی ہیں۔
افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں اور خواتین کو ثانوی اسکولوں اور جامعات میں جانے سے روکا گیا ہے۔
لڑکیوں کے لیے ثانوی اسکول مارچ 2022 میں بند کیے گئے تھے، جبکہ دسمبر 2022 میں خواتین کے جامعات میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔
طالبان حکومت نے خواتین کو لڑکوں کو پڑھانے سے بھی روک دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس فیصلے سے تعلیمی نظام میں تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی پیدا ہوئی ہے، جبکہ 2030 تک 11 ہزار سے زائد اہل خواتین اساتذہ کی کمی کا خدشہ ہے۔
یونیسکو کے مطابق افغانستان کے تعلیمی نظام کو پہلے ہی کئی مسائل کا سامنا ہے۔ متعدد اسکول گنجائش سے زیادہ طلبہ، کم سہولیات اور بنیادی ضروریات کی کمی کا شکار ہیں۔
تقریباً نصف اسکولوں میں پانی اور صفائی کا نظام دستیاب نہیں، جبکہ قدرتی آفات کے باعث گزشتہ پانچ سال میں تقریباً ایک ہزار اسکول بند ہو چکے ہیں۔
پرائمری سطح پر بھی 20 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ 10 سال کی عمر کے 90 فیصد بچے سادہ عبارت پڑھنے سے قاصر ہیں۔ ملک میں شرح خواندگی 37 فیصد تک رہ گئی ہے۔
دوسری جانب طالبان حکومت نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی ختم کرنے کے عالمی مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے اسے افغانستان کا داخلی معاملہ قرار دیا ہے۔