مکہ دفاعی معاہدہ: کیا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا نیا اتحاد بھارت کے لیے باعثِ تشویش ہے؟

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے ممکنہ اثرات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت تین اہم مسلم ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون اور اس کے بھارتی قومی سلامتی سمیت خطے کے مفادات پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہا ہے۔

7 اگست کو سعودی عرب کے شہر مکہ میں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کی سب سے اہم شق کے مطابق ‘تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح حملے کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا’۔ جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت اور جارحیت کے خلاف اجتماعی مزاحمت کو مضبوط بنانا ہے۔

معاہدے پر دستخط کے بعد انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا تھا کہ بھارت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ مین سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا نئی دہلی کو اس معاہدے سے واقعی پریشان ہونے کی ضرورت ہے؟ رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ معاہدہ پاکستان کی علاقائی اور دفاعی اہمیت میں اضافہ کرتا ہے، لیکن اسے فوری طور پر بھارت کے خلاف قائم ہونے والے فوجی اتحاد کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہو گا۔

بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ نئی دہلی اس کے قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ علاقائی امن اور استحکام پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہا ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

پاکستان کے لیے معاہدے کی اہمیت کیا ہے؟
تجزیہ نگاروں کے مطابق اس نئے معاہدےمیں تینوں ممالک مختلف قسم کی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کے پاس مالی وسائل اور مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی اثر و رسوخ ہے، ترکیہ ایک بڑی روایتی فوج، نیٹو کا تجربہ اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دفاعی صنعت رکھتا ہے، جبکہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہونے کے ساتھ ایک بڑی اور تجربہ کار فوج کا حامل ہے۔

یہی پہلو بھارت کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کی نظر میں سوال صرف یہ نہیں کہ کسی ممکنہ پاکستان بھارت تنازعے میں سعودی عرب یا ترکیہ براہِ راست پاکستان کی فوجی مدد کریں گے یا نہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ آیا اس معاہدے سے پاکستان کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی، مشترکہ پیداوار، تربیت، انٹیلی جنس تعاون یا سعودی مالی معاونت تک زیادہ منظم رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

ترکیہ اور پاکستان پہلے ہی دفاعی تعاون رکھتے ہیں، اور اس نئے سہ فریقی انتظام سے مستقبل میں دفاعی صنعت اور مشترکہ منصوبوں کو مزید وسعت ملنے کا امکان زیرِ بحث آ سکتا ہے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے بھی معاہدے کے بعد دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں اور انسدادِ دہشت گردی سمیت دفاعی تعاون بڑھانے کی بات کی ہے۔

کیا سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کسی تنازعے میں بھارت کے خلاف کھڑا ہو گا؟
رپورٹ کے مطابق یہ اس وقت جاری بحث کا سب سے اہم سوال ہے۔ سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں، نہ ہی اسے مذہبی یا فوجی بلاک کی تشکیل قرار دیا جانا چاہیے۔ ریاض کا کہنا ہے کہ معاہدے کا مقصد اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم کرنا ہے اور اس سے سعودی عرب کے دوسرے ممالک کے ساتھ موجود سٹریٹجک تعلقات متاثر نہیں ہوتے۔

بھارت اور سعودی عرب کے درمیان بھی توانائی، تجارت، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں وسیع تعلقات موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے لیے پاکستان کے ساتھ دفاعی شراکت داری کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پاکستان اور بھارت کے ہر تنازعے میں خودکار طور پر اسلام آباد کا ساتھ دے گا۔

اس کے باوجود نئی دہلی کے لیے ایک نئی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اب سعودی عرب کے ساتھ اپنے روایتی دفاعی تعلقات کو ایک ایسے سہ فریقی فریم ورک کے تحت آگے بڑھا رہا ہے جس میں ترکیہ بھی شامل ہے۔

بھارت کے لیے ترکیہ زیادہ اہم تشویش کیوں ہے؟
رپورٹ کے مطابق بھارتی نقطۂ نظر سے ترکیہ کا کردار زیادہ حساس سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ انقرہ اور اسلام آباد کے سیاسی اور دفاعی تعلقات حالیہ برسوں میں مضبوط ہوئے ہیں۔ ترکیہ کشمیر کے معاملے پر بھی ایسے مؤقف اختیار کرتا رہا ہے جن پر بھارت اعتراض کرتا آیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسی وجہ سے بھارتی پالیسی سازوں کے لیے یہ سوال اہم ہو گا کہ ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مستقبل میں جنوبی ایشیا کے عسکری توازن کو کس حد تک متاثر کرتا ہے۔ سعودی مالی وسائل کے شامل ہونے کی صورت میں اس تعاون کی استعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

کیا یہ ’اسلامی نیٹو‘ بن سکتا ہے؟
مکہ معاہدے کی اس شق کی وجہ سے، جس کے تحت ایک ملک پر حملے کو سب پر حملہ سمجھا جائے گا، اس کا موازنہ نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول سے کیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق فی الحال اسے مکمل طور پر ’اسلامی نیٹو‘ قرار دینا قبل از وقت ہے۔

نیٹو کے پاس مستقل فوجی کمان، مشترکہ منصوبہ بندی، مربوط فورسز اور کئی دہائیوں میں تیار ہونے والا ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے۔ مکہ معاہدے کے حوالے سے ابھی ایسا کوئی جامع مشترکہ فوجی کمانڈ سسٹم یا خودکار فوجی ردعمل کا طریقۂ کار سامنے نہیں آیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی اصل اہمیت کا اندازہ مستقبل میں ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی پیداوار، کمانڈ نظام اور عملی تعاون سے ہو گا۔

کیا بھارت کو فکر مند ہونے کی ضرورت ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کو اس معاہدے کو فوری طور پر اپنے خلاف قائم ہونے والے فوجی محاذ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔

پاکستان کو اس معاہدے سے مشرقِ وسطیٰ میں زیادہ سیاسی اور دفاعی اہمیت مل سکتی ہے، جبکہ سعودی سرمایہ، ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی عسکری صلاحیتیں مستقبل میں ایک زیادہ مضبوط سکیورٹی شراکت داری کی بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب کے بھارت کے ساتھ اپنے وسیع اقتصادی اور سٹریٹجک مفادات بھی موجود ہیں، جبکہ معاہدے کے رکن ممالک کے مطابق ‘یہ کسی خاص ملک کے خلاف نہیں اور اس کا مقصد باہمی دفاع اور علاقائی استحکام ہے’۔

اپنا تبصرہ لکھیں