میثاقِ مکہ

میثاقِ مکہ کتنا اہم اور کتنا غیر معمولی ہے، اس کا درست اندازہ کرنے کے لیے ہمیں تھوڑا ماضی میں جانا ہو گا۔

کہاں وہ وقت کہ عربوں اور ترکوں کی مخاصمت کے نتیجے میں ترکوں کی سلطنت عثمانیہ ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے اور مسجد اقصی برطانوی قبضے میں چلی جاتی ہے اور کہاں یہ قبول دعاؤں جیسا منظر کہ وہی عرب اور ترک پاکستان کے ساتھ مل بیٹھے ہیں اور اعلان کر رہے ہیں کہ خبردار ہم میں سے کسی ایک پر حملہ ہوا تو دوسرے پر حملہ تصور ہو گا۔

کبھی آپ نے سوچا، وہ کون ہے جس نے یہ کر دکھایا ؟ یہ آپ کا اور میرا پیارا پاکستان ہے۔

یہ معرکہ حق کے بعد کا پاکستان ہے جس نے جنوبی ایشیا سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک تاریخ کا دھارا بدل دیا ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہ تھا، یہ وہ کوہ کنی تھی جس کے تصور سے فرہاد کا زہرہ آب ہو جائے لیکن پاکستان نے اللہ کے فضل سے یہ بھی کر دکھایا۔

دوسروں میں اور پاکستان میں یہی فرق ہے۔ پاکستان امت میں تقسیم کا عنوان نہیں ہے۔ پاکستان امت کے لیے سراپا خیر ہے۔ ایران سے ترکیہ تک سراپا خیر خواہی کا نام پاکستان ہے۔ ایران اور عرب جنگ کی اسرائیلی سازش کو ناکام بنانے والا بھی پاکستان ہے اور ترکوں اور عربوں کو ایک کرنے والا بھی پاکستان ہے۔

میں پہلے دن سے یہ لکھ رہا ہوں کہ ہماری قوم کو ابھی تک یہ اندازہ ہی نہیں کہ پاکستان نے معرکہ حق میں کیسی کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ اسی کامیابی کے ثمرات ہیں کہ روٹھے روٹھے سے بھائی ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں اور اڑوس پڑوس کو بتا رہے ہیں کہ ماضی میں جو ہو گیا سو ہو گیا، اب سے ہم بھائی ہیں اور خبردار جو کسی ایک بھائی پر حملہ کیا، ایک پر حملہ ہوا تو ہم تینوں پر حملہ تصور ہو گا۔

بالکل مبالغہ نہیں کر رہا، ناپ تول کر اور میزانیے پر رکھ کر لکھ رہا ہوں کہ جنگ عظیم میں مسلمانوں پر جو ذلت مسلط ہوئی، اس کے بعد امت کی یہ دوسری بڑی انگڑائی ہے۔ پہلی انگڑائی پاکستان کا ایٹمی قوت بننا تھا، دوسری انگڑائی میثاق مکہ ہے اور میثاق مکہ کی اساس اور بنیاد وہ اعتماد ہے جو معرکہ حق نے اسلامی دنیا کو دیا ہے۔

ابھی تو شروعات ہیں، یہ بات اللہ کرے کہ کامیابی سے آگے بڑھے۔ اگر مطلوبہ مقاصد حاصل ہو گئے تو یہ معاہدہ امت کی نشاۃ ثانیہ کا باعث بھی بن سکتا ہے اور اگر یہ ہو گیا تو معرکہ حق اس نشاۃ ثانیہ کا نقش اول قرار پائے گا۔

زمانہ طالب علمی کی بات ہے، آئی پی ایس میں ایک سیمینار ہو رہا تھا۔ بائیں بازو کے ایک دانش ور نے کہا کہ مسلم امہ کے اتحاد کی بات ایسے ہی ہے جیسے صفر جمع صفر جمع صفر۔ یہ صفریں جتنی بار بھی ایک دوسرے سے جمع ضرب ہوتی رہیں، جواب صفر ہی آئے گا۔ مرحوم حمید گل صاحب کی باری آئی تو انہوں نے کہا صفروں کو اتنا معمولی بھی نہ سمجھیں، جس روز یہ کسی 1 کے دائیں جانب جمع ہو گئیں، اس روز جمع تقسیم کا جواب صفر نہیں رہے گا۔ یہ آپ سے گنا نہیں جائے گا۔

مسلم دنیا کا اپنا ایک پوٹینشل ہے۔ یہ ایک مکمل گلدستہ ہے، بس اتنی دیر تھی کہ کسی ایک ملک کو عسکری طور طاقت ور ہونا تھا۔ یہ طاقت موجود ہے اور اس طاقت کا نام پاکستان ہے۔ معرکہ حق اس طاقت کا اعلان ہے۔ اب جب سعودی عرب کی معیشت اور ترکیہ کی حربی صنعت پاکستان کی اس قوت کے ہم رکاب ہو جائیں گی تو یہ ایک ایسا تہذیبی اور دفاعی گلدستہ بنے گا جو اپنی مثال آپ ہو گا۔

خطے کی تزویراتی صف بندی تبدیل ہو رہی ہے۔ مغرب کے پرانے اتحادیوں سے بگاڑے بغیر خطے کی دفاع کا ایک مقامی متبادل متعارف کرایا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ جنوبی ایشیا اور مشرق سطی میں ڈیٹرنس (یعنی سد جارحیت) کا کردار ادا کرے گا۔ بھارت کو بھی پیغام پہنچ چکا ہے اور اسرائیل کو بھی۔ ایک نئی صف بندی جنم لے چکی ہے۔

اس معاہدے سے خیلج میں پاکستان کی اہمیت ایک بار پھر بڑھے گی جس کے پاکستان کو دفاعی، سفارتی اور معاشی، ہر طرح کے فوائد حاصل ہوں گے۔ پاکستان کی سفارتی تنہائی والے بیانیے کا قصہ تو اب تمام ہی سمجھیے۔ پاکستان اس وقت جنوبی ایشیا سے لے کر مشرق وسطی تک کے معاملات میں مرکز و محور ہے۔

پھر چونکہ یہ غیر مغربی عسکری اتحاد ہے، مقامی ہے اور چین دوست قوتوں پر مشتمل ہے، اور بالخصوص اس میں پاکستان کا شامل ہونا چین کے لیے ایک اچھا پیغام ہے اور چین اسے خاصے مثبت انداز سے دیکھے گا۔ یہ وہ فیکٹر ہے جو اس معاہدے کو سہہ فریقی سے آگے کی چیز بھی بنا سکتا ہے اور اس میں کچھ اور ممالک بھی آ سکتے ہیں۔

اسی طرح اگر کسی ملک کو اس سے کوئی تحفظات ہیں تو انہیں ایڈریس کرنے کے لیے پاکستان بھی موجود ہے، جو حالیہ تنازعے میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور ساتھ ہی کسی نہ کسی درجے میں چین کا موجود ہونا بھی خارج از امکان نہیں ہے۔

امکانات بھی ہیں اور خدشات بھی لیکن یہ طے ہے کہ وقت کا موسم بدل رہا ہے اور پاکستان ان بدلتے موسموں کا نقیب ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں