دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

انتظار حسین صاحب سادہ اور عام فہم انداز میں بڑی بات کہنے والے ادیب تھے۔ ان سے تعارف ‘دلی تھا جس کا نام’ کے ذریعے ہوا، جہاں وہ دلی کی گمشدہ تاریخ اور عمرِ رفتہ پہ نوحہ کناں نظر آتے ہیں۔ ان کی کتاب ‘چاند گہن’ کا مطالعہ کیا تو گویا اول الذکر کتاب کی توسیع معلوم ہوئی۔

وہاں انہوں نے” دلی کی تہذیب معلوم سے نامعلوم اور موجود سے ماوراء کی طرف سفر کرتی نظر آتی تھی” کہتے ہوئے دلی کی تاریخ اور تہذیبی دور کا خوب ذکر کیا اور ۵۷ کی جنگِ آزادی کے نتیجے میں شاہ جہاں آباد کے ویرانے پر کچھ رک سے گئے۔

مگر ‘چاند گہن’ میں ۴۷ کی تقسیم کے نتیجے میں رونما والے حالات پر عام گھروں، محلوں اور لوگوں کی کہانیاں اس درد سے بیان کی کہ دلی کا ایک اور نقشہ بن گیا۔ بوجی نامی توہم پرست گھریلو خاتون کردار چاند گرہن کی خبر پر چیخ اٹھیں کہ’57کے غدر کے وقت بھی زبردست قسم کا چاند گرہن پڑا تھا’۔

انتظار حسین صاحب ہندوستانی تہذیب کے نوحہ خواں تھے، جنہوں نے شکستہ دل کے ساتھ یادوں کی بوریاں اٹھائے پاکستان کی جانب رخ کیا تھا۔تقسیم ہندوستان کے نتیجے میں جب رخصت کی گھڑی آ پہنچی اور وہ اس عجیب و غریب شہر سے رخصت ہونے لگے تو کہا کہ ‘یہاں میں آیا بھی عجب انداز سے اور جا بھی رہا ہوں عجب انداز سے۔ میں نے مسلمانوں کے بہت سے شہر دیکھے، بہت سی بستیوں کی سیر کی۔ مگر اس بستی کا سفر سب سے انوکھا رہا۔ اس شہر کے در و دیوار جن سے کل تک وحشت برستی تھی۔ آج چپ چاپ حسرت کی تصویر بنے کھڑے ہیں۔ یہ لال قلعہ، یہ قطب مینار، یہ جامع مسجد، یہ مسلمانوں کی تاریخ کے گنگ نغمے۔ یہ پرسوز منجمد مرثئے۔ چند گھنٹوں کے اندر اندر میری نگاہوں سے اوجھل ہوجائیں گے۔ یہ پوری بستی نگاہوں سے چھپ جائے گی، تاریکی میں ڈوب جائے گی اور میں اپنے نئے وطن کی طرف جا رہا ہوں گا۔’

‘چاند گہن’ تقسیم ہند کے وقت عام گھروں میں موجود کرداروں پر محیط ایسی کہانیاں پیش کرتی ہیں جس میں نغمہ بھی ہے اور سوز بھی،مگر ‘دلی تھا جس کا نام ‘دلی کی تہذیبی اور سیاسی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے۔ انتظار حسین صاحب کے الفاظ میں سمیٹا جائے تو “دلی کی تہذیب معلوم سے نامعلوم اور موجود سے ماوراء کی طرف سفر کرتی نظر آتی تھی”۔

انتظار حسین صاحب نے اس کتاب کی صورت تاریخ پر قلم اٹھایا تو گویا اپنے مخصوص طرز کلام سے اس کو رنگ دیا۔ کتاب پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ دلی کی جامع مسجد میں چہل پہل ہے، سیڑھیوں پر داستاں گو کوئی داستاں سنا رہا ہے اور انتظار حسین کے الفاظ میں “کھوے سے کھوا چھلتا ہے”۔

انتظار حسین اپنی دلی کی بنیاد ہندؤں کی روایتی فلسفیانہ تاریخ “مہا بھارت” میں تلاش کرتے ہیں۔ ہزاروں برس قبل یہاں اندرپرستھ شہر آباد تھا۔ اس نگری کو راجاپانڈو نےآباد کیا تھا۔ پانڈو ہندومت کی رزمیہ داستاں مہا بھارت کے مطابق،کورو مملکت کا راجا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے پانچ بیٹے تھے۔ انہی پانڈوؤں کو مہا بھارت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔

وقت نے کروٹ لی تو دہلو نام کے راجہ نے یہاں کا رخ کیا اور یہیں کہ ساکن بن بیٹھے۔ انتظار حسین لکھتے ہیں کہ” دہلو کے نام سے اس نگر کا نام دہلو پڑا، جو وقت کے ساتھ بگڑ کر دہلی اور پھر دلی بن گیا”۔

اس نامعلوم تاریخ کا تزکرہ کرنے کے بعد یہ کتاب دلی کو گمنامی میں دھکیل دیتی ہے اور یہ نگر 792 برس تک اجاڑ رہتا ہے۔ تاہم، معلوم تاریخ کے مطابق 1052 میں راجہ اننگ پال نے اس کی تعمیر و مرمت پہ اپنی کھپت لگائی، جن کا تعلق چوہان خاندان سے تھا۔

چوہانوں کے اس قتدار سے لے کر انگریزوں کے مکمل قبضے تک کیا واقعات ہوئیں؟ کس نے کب اس شہر کے بناؤ اور بگاڑ میں حصہ لیا؟ مغلوں نے کب یہاں کس کس روایت کی بنا ڈالی؟ لال قلعہ، دلی کی جامع مسجد، چاندنی چوک، نظام الدین اولیا سمیت دیگر درگاہوں اور خانقاہوں، گلیوں و کوچوں، محلوں اور بازاروں، رسم و رواج اور تہواروں، عوامی قصوں اور کہانیوں کی مکمل داستاں اس کتاب میں قصہ گوئی کے انداز میں بیان کی گئی ہے۔

13 ویں صدی میں ظہیرالدین بابر کابل سے آیا اور ابراہیم لودھی کو شکست دے کر لودھی ریاست کا خاتمہ کر دیا۔ مگر بابر نے دلی کی بجائے آگرہ کو اپنا پایہ تخت بنایا۔ ہمایوں نے اپنا دارالسلطنت دلی منتقل کیا، لیکن اکبر نے آگرہ پر ایسی توجہ دی کہ وہ “اکبر آباد” ٹھہرا۔ تاہم، شاہ جہاں نے دلی کو ایسا بسایا کہ وہ “شاہجہاں آباد” کہلائی۔

مجموعی طور پر اس کتاب میں دلی کی تہذیبی تاریخ کا سلسلہ شاہجہاں آباد سے شروع ہوتا ہے۔ جہاں لال قلعہ مرکز ہے اور دلی کے کوچہ و بازار متنوع اور کثیر الجہتی کی اعلی تاریخ رقم کر ر ہے ہیں۔ بناؤ سنگھار، شاہانہ ٹھاٹ باٹ، زنان خانے و مردانے، حویلیوں کے دیوان خانے، توہمات، ہنرمندوں و عقیدت مندوں کے قصےاور ایسے بہت سے سماجی موضوعات اس کتاب کا حصہ ہیں۔

ان موضوعات کو اصل بو دوباش میں میر تقی میر نے دیکھا تو بول اٹھے کہ؛
دلی کے نہ تھے کوچے، اوراقِ مصور تھے
جو شکل نظر آئی، تصویر نظر آئی

دلی کی یہ رنگینیاں انگریزوں کی آمد کے بعد ماند پڑ گئیں۔ مغلیہ سلطنت شاہی تہذیب کی صورت اختیار تو کرگئی، مگر دلی کی رعنائیاں برابر انگڑائیاں لیتی رہیں۔ پھر، 1857 کے ہنگام تھے کہ جہان آباد شہر برباد ہوگیا، غالب کے لفظوں میں ایک غارت زدہ شہر۔

مر ہٹوں نے جب اس شہر کو لوٹا، تو میر تقی میر اس خرابے سے نکلے اور لکھنؤ جا کر اپنا تعارف کراتے ہوئے دلی کا نوحہ سنایا۔ انگریزوں نے جب لوٹا تو غالب کے علاوہ فریاد کرنے والا کوئی باقی نہیں رہا تھا۔

سو وہی میرتقی میر کا نوحہ کہ؛
کیا بود و باش پوچھو ہو ،پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے، ہنس ہنس پکار کے
دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

اپنا تبصرہ لکھیں