افغان عبوری حکومت کے قیام کے بعد جلاوطن افغان خواتین کرکٹرز اگلے ماہ انگلینڈ کا دورہ کریں گی

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد کھیلوں سے محروم ہونے والی افغان خواتین کرکٹرز اگلے ماہ انگلینڈ کا دورہ کریں گی۔ یہ دورہ پانچ برس کی جدوجہد کے بعد ان کھلاڑیوں کی کرکٹ میں واپسی کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے جمعرات کو دورے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ “افغانستان ریفیوجی ٹیم” میں وہ کھلاڑی شامل ہوں گی جو افغانستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاہدے میں تھیں، لیکن طالبان حکومت کے بعد کھیلوں اور عوامی زندگی سے باہر کر دی گئیں۔

یہ دورہ 22 جون سے شروع ہوگا، جس میں ٹی ٹوئنٹی میچز کے علاوہ تربیتی سیشنز بھی شامل ہوں گے۔ کھلاڑیوں کو 5 جولائی کو لارڈز میں ہونے والے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل دیکھنے کا موقع بھی ملے گا۔

ای سی بی نے کہا کہ اس دورے کی ثقافتی اور کھیلوں کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت ہے۔

بورڈ کے مطابق یہ دورہ صرف ایک ٹیم کے طور پر کھیلنے کا موقع نہیں بلکہ خواتین کی کھیلوں میں شمولیت اور ان کے حق کے لیے کرکٹ کے عزم کا اظہار بھی ہے۔

افغان خواتین کرکٹرز کی اکثریت آسٹریلیا میں آباد ہو چکی ہے، جہاں وہ مقامی مقابلوں میں حصہ لے رہی ہیں، تاہم انہیں بین الاقوامی کرکٹ تک رسائی حاصل نہیں۔

ان کھلاڑیوں نے کئی بار انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ایک “ریفیوجی ٹیم” کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

ان کھلاڑیوں کی دوبارہ کرکٹ میں واپسی کے لیے “اِٹس گیم آن” نامی ایک مشاورتی ادارے نے مدد فراہم کی، جس کی شریک بانی آسٹریلیا کی سابق کرکٹر میل جونز ہیں۔

میل جونز نے کہا ہے کہ ان کھلاڑیوں نے بے پناہ مشکلات کے باوجود غیر معمولی حوصلہ اور کھیل سے وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ایسے مزید مواقع ملنے چاہییں اور انہیں عالمی کرکٹ برادری کا حصہ تسلیم کیا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ لکھیں