امریکی خلائی کمپنی اسپیس ایکس اپنے نئے اور پہلے سے زیادہ بڑے راکٹ ‘اسٹارشپ’ کو آزمائشی پرواز پر روانہ کرنے کے قریب پہنچ گئی تھی، تاہم آخری لمحات میں سامنے آنے والے متعدد فنی مسائل کے باعث لانچ روک دیا گیا۔
407 فٹ بلند یہ راکٹ ٹیکساس سے خلا کے کنارے تک ایک طویل آزمائشی سفر پر روانہ ہونا تھا، جو دنیا کے نصف حصے تک پھیلا ہوا مشن تھا، لیکن میکسیکو کی سرحد کے قریب واقع ‘اسٹار بیس’ لانچنگ مقام پر تکنیکی خرابیاں سامنے آگئیں۔
اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے بعد میں بتایا کہ لانچ ٹاور کے بازو کو تھامنے والی ہائیڈرولک پن واپس نہیں ہٹ سکی، جس کی وجہ سے پرواز ممکن نہ رہی۔ ان کے مطابق اگر مسئلہ جلد حل ہوگیا تو دوبارہ لانچ کی کوشش جمعہ کو کی جائے گی۔
یہ لانچ کوشش ایسے وقت میں کی گئی جب ایلون مسک نے ایک روز قبل اعلان کیا تھا کہ ان کی راکٹ کمپنی جلد عوامی شیئر مارکیٹ میں شامل ہونے جا رہی ہے۔
اس مشن میں اسٹارشپ کے ساتھ بیس فرضی ‘اسٹار لنک’ سیٹلائٹس بھی شامل تھے، جنہیں خلائی سفر کے دوران چھوڑا جانا تھا، جبکہ تقریباً ایک گھنٹے کی پرواز کے اختتام پر خلائی جہاز کو بحرِ ہند میں کنٹرول انداز میں اتارا جانا تھا۔
یہ اسٹارشپ کا بارہواں آزمائشی مشن تھا اور گزشتہ خزاں کے بعد پہلا بڑا تجربہ بھی تھا۔
امریکی خلائی ادارہ ناسا مستقبل میں چاند پر خلا بازوں کو اتارنے کے لیے اسی نئے اسٹارشپ ماڈل پر انحصار کر رہا ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے برسوں میں یہی راکٹ انسانی قمری مشن میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔