بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے امریکا کے خلاف ایک مشترکہ مؤقف کا واضح اشارہ دیا ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کا دورہ کیا تھا ۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والی اس سربراہی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دنیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکا کی عالمی پالیسیوں اور دفاعی حکمت عملی پر کھل کر بات کی۔ چین اور روس نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں خبردار کیا کہ دنیا ایک بار پھر ’’جنگل کے قانون‘‘ کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مشترکہ بیان میں امریکا کے مجوزہ 175 ارب ڈالر کے ’’گولڈن ڈوم‘‘ دفاعی نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس منصوبے کے تحت امریکا اپنے وسطی علاقوں میں نیا میزائل دفاعی نظام قائم کرنا چاہتا ہے۔ چین اور روس نے اس اقدام کو عالمی توازن کے لیے خطرہ قرار دیا۔
دونوں ممالک نے امریکا اور روس کے درمیان آخری بڑے اسلحہ کنٹرول معاہدے کے خاتمے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ روس کا کہنا ہے کہ اس نے معاہدے میں توسیع کی پیشکش کی تھی، مگر واشنگٹن نے اس کا جواب نہیں دیا۔
اس سے قبل روسی صدر پیوٹن نے کہا کہ مشکل عالمی حالات کے باوجود روس اور چین کے درمیان معاشی تعاون مضبوط انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔
صدر شی جن پنگ نے روس اور چین کے تعلقات کو ’’ناقابلِ شکست‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے آزمائشوں کے باوجود اپنے سیاسی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے۔
ایران کی صورتحال بھی مذاکرات کا اہم حصہ رہی۔ صدر شی جن پنگ نے ایران کے حوالے سے کہا کہ جنگ بندی فوری ضرورت ہے اور مزید لڑائی کسی کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہیں۔
اس ملاقات میں توانائی کے شعبے پر بھی خاص توجہ دی گئی۔ روسی صدر نے توانائی کو دونوں ممالک کے معاشی تعلقات کی ’’بنیادی قوت‘‘ قرار دیا۔ یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک نے روس سے معاشی تعلقات محدود کر دیے تھے، جس کے بعد چین روسی تیل کا ایک بڑا خریدار بن کر سامنے آیا۔
اگرچہ دونوں ممالک نے کئی نئے معاہدوں پر دستخط کیے، تاہم ’’پاور آف سائبریا 2‘‘ گیس پائپ لائن منصوبے پر کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ روسی حکام کے مطابق منصوبے کے بنیادی نکات پر اتفاق موجود ہے، لیکن اس کی تکمیل کے لیے کوئی واضح وقت مقرر نہیں کیا گیا۔
صدر پیوٹن نے اس موقع پر کہا کہ روس اور چین ایک ’’آزاد اور خودمختار‘‘ خارجہ پالیسی کے تحت مل کر کام کریں گے تاکہ دنیا میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔ دوسری جانب صدر شی نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی بالادستی بڑھ رہی ہے، اسی لیے چین اور روس کا تعاون پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔