ایران جنگ کے باعث تائیوان کو 14 ارب ڈالر کا اسلحہ پیکج روک رہے ہیں، امریکی بحریہ

امریکہ کے قائم مقام بحریہ سیکریٹری ہنگ کاؤ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث واشنگٹن نے تائیوان کو 14 ارب ڈالر کے مجوزہ اسلحہ پیکج کی فراہمی عارضی طور پر روک دی ہے تاکہ امریکی افواج کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود محفوظ رکھا جا سکے۔

ہنگ کاؤ نے امریکی سینیٹ کی دفاعی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں قانون سازوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسلحہ کی فراہمی روکنے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ آپریشن ‘ایپک فیوری’ کے لیے درکار تمام جنگی سازوسامان دستیاب رہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت کے پاس مطلوبہ اسلحہ موجود ہے، تاہم احتیاطی اقدامات کے تحت صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تائیوان کو اسلحہ فروخت دوبارہ کب شروع ہوگی، اس کا فیصلہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کریں گے۔

امریکی کانگریس نے جنوری میں تائیوان کے لیے اس اسلحہ پیکج کی منظوری دی تھی، تاہم اس پر عملدرآمد کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حتمی منظوری ضروری ہے۔ اگر یہ معاہدہ مکمل ہوا تو یہ تائیوان کے لیے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا اسلحہ پیکج ہوگا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان 8 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد لڑائی وقتی طور پر رکی ہوئی ہے، لیکن دونوں ممالک اب تک مستقل امن معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔

دوسری جانب تائیوان کے وزیراعظم چو جنگ تائی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت امریکی اسلحہ خریدنے کی کوششیں جاری رکھے گی۔

ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے تائیوان میں امریکہ کی حمایت کے حوالے سے خدشات اور بے یقینی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ تائیوانی حکومت کے لیے مستقبل میں دفاعی بجٹ میں اضافے کی منظوری حاصل کرنا بھی مشکل بن سکتا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ تائیوان کے اسلحہ معاہدے کی منظوری دے بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی۔ انہوں نے اس معاہدے کو چین کے ساتھ مذاکرات میں ‘سودے بازی کا ذریعہ’ بھی قرار دیا تھا۔

چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور واشنگٹن کی جانب سے تائی پے کی مسلسل حمایت کی مخالفت کرتا ہے، جبکہ امریکہ اگرچہ تائیوان کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا، لیکن 1979 کے قانون کے تحت اس کی دفاعی مدد کا پابند ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں