انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انقلاب ہمیشہ اقوام کی بیداری اور شعور کے نتیجے میں آتا ہے۔ انقلاب کبھی کسی ایک شخص یا ایک جماعت کی محض کوشش سے کامیاب نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک اجتماعی شعور اور مشترکہ جدوجہد کا نام ہے۔ مگر جب کسی قوم پر جہالت کا غلبہ ہو، تعلیم سے محرومی اس کے ذہن و فکر پر سایہ فگن ہو، اور شعور کی آنکھیں بند ہو جائیں، تو ایسے حالات میں انقلاب لانے کی کوشش اکثر لاحاصل ثابت ہوتی ہے۔ یہی مفہوم اس جملے میں پوشیدہ ہے کہ “ایک جاہل قوم کے لیے انقلاب لانے والا ایسا ہے جیسے کوئی شخص اندھے کے راستے کو روشن کرنے کے لیے اپنے جسم کو آگ لگا دے۔”
جہالت اور اندھے پن کی تمثیل
اس جملے میں “اندھے” اور “روشنی” کی جو تمثیل استعمال ہوئی ہے، وہ نہایت عمیق اور حقیقت پر مبنی ہے۔ روشنی کا فائدہ صرف اسی کو ہے جو دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایک اندھا خواہ کتنا بھی طاقتور چراغ جلا دے یا کوئی دوسرا اس کے لیے اپنی جان قربان کر کے روشنی مہیا کر دے، اندھے کی حالت وہی رہتی ہے کیونکہ اس کے پاس دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں۔ بالکل اسی طرح ایک جاہل قوم کے سامنے اگر بڑے سے بڑا مصلح یا رہنما آ بھی جائے، اپنی جان تک قربان کر دے، اور حق و باطل کا فرق واضح کر دے، تب بھی وہ قوم اس روشنی کو محسوس کرنے سے قاصر رہتی ہے۔
تعلیم اور شعور کی ضرورت
ہر انقلاب کا بنیادی ایندھن تعلیم اور فکری بیداری ہے۔ تعلیم انسان کو سوچنے کی صلاحیت دیتی ہے، اسے اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہ کرتی ہے، اور باطل نظام کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ جس قوم میں تعلیم کی کمی ہو، وہاں عوام اپنے مسائل کی اصل وجوہات کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ وقتی نعروں، جھوٹے وعدوں اور کھوکھلی قیادت کے فریب میں آ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاہل قوم کو انقلاب کے لیے تیار کرنا نہایت مشکل بلکہ کبھی کبھار ناممکن ہو جاتا ہے۔
تاریخ سے مثالیں
دنیا کی کئی اقوام نے تعلیم اور شعور کے ذریعے اپنی تقدیر بدلی۔ یورپ کی نشاۃ ثانیہ (Renaissance) اس بات کی مثال ہے کہ جب عوام نے تعلیم اور علم کی روشنی کو قبول کیا تو صدیوں کی تاریکی ختم ہو گئی اور نئے دور کا آغاز ہوا۔ اسی طرح جاپان کی ترقی کی کہانی تعلیم اور سائنسی شعور کی بنیاد پر لکھی گئی۔ دوسری طرف مسلم دنیا کی تنزلی کی ایک بڑی وجہ یہی جہالت اور علم سے دوری رہی۔ بہت سے رہنماؤں نے انقلاب لانے کی کوشش کی، مگر قوم کے اندر شعور کی کمی نے ان کی قربانیوں کو ضائع کر دیا۔
جب چی گویرا کو اُس کے ٹھکانے سے گرفتار کیا گیا، اور بتایا گیا کہ یہ راز ایک چرواہے نے فاش کیا ہے ۔کسی نے چرواہے سے حیرت سے پوچھاتم نے اُس شخص کو کیسے بیچا جو ساری زندگی تمہارے اور تمہارے حقوق کے لیے لڑتا رہا؟” چرواہا بس اتنا بولا ؛ اس کی دشمنوں سے جنگ نے میری بکریوں کو ڈرا دیا تھا برسوں پہلے، مصر میں عظیم قائد محمد کریم نے نپولین کی قیادت میں آنے والے فرانسیسی لشکر کی مزاحمت کی۔ گرفتار ہونے پر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ نپولین نے انہیں بلا کر کہا مجھے افسوس ہے کہ ایک ایسے شخص کو قتل کرنا پڑ رہا ہے جس نے اپنے وطن کا اتنی بہادری سے دفاع کیا۔ میں نہیں چاہتا کہ تاریخ مجھے ایسے شخص کے طور پر یاد رکھے جس نے اپنی سرزمین کے لیے لڑنے والے ہیروز کو مار ڈالا۔ اس لیے میں تمہیں معاف کرتا ہوں — اگر تم دس ہزار سونے کے سکے ادا کرو جو ہمارے مارے گئے سپاہیوں کا معاوضہ ہوں۔ محمد کریم مسکرا کر بولے میرے پاس اتنے نہیں ہیں، مگر تاجروں پر میرے سو ہزار سے زیادہ سونے کے سکے واجب الادا ہیں۔ نپولین نے مہلت دی۔ وہ ہتھکڑیاں پہنے، قبضے کے سپاہیوں سے گھرا ہوا بازار پہنچا ان کے پاس یہ امید تھی کہ جن کے لیے اپنی جان داؤ پر لگائی وہ اب وفا کا ثبوت دیں گے۔ مگر ایک بھی تاجر نے جواب نہ دیا۔ الٹا اُن پر الزام لگایا کہ تم نے اسکندریہ کو برباد کیا اور ان کے کاروبار کو تباہ کیا۔ محمد کریم ٹوٹے دل کے ساتھ نپولین کے سامنے واپس آئے تو نپولین نے کہا میں تمہیں اس لیے قتل نہیں کر رہا کہ تم نے ہم سے جنگ کی بلکہ اس لیے کہ تم نے اپنی جان ایسے بزدل لوگوں کے لیے قربان کی جن کے لیے تجارت، وطن کی آزادی سے زیادہ قیمتی تھی۔ اور محمد رشید رضا نے کہا تھا: ایک جاہل قوم کے لیے انقلاب لانے والا ایسا ہے جیسے کوئی شخص اندھے کے راستے کو روشن کرنے کے لیے اپنے جسم کو آگ لگا دے۔
رہنماؤں کی قربانی اور قوم کی بے حسی
تاریخ ایسے رہنماؤں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں تاکہ اپنی قوم کے لیے روشنی کا چراغ جلا سکیں۔ مگر اگر قوم ہی بے حس اور جاہل ہو تو یہ قربانیاں وقتی جذبات سے آگے بڑھ کر کوئی دیرپا تبدیلی نہیں لا پاتیں۔ یہ منظر بالکل اسی اندھے کی طرح ہے جس کے سامنے آپ لاکھ چراغ جلا دیں، وہ روشنی کی قدر و قیمت سے بے خبر ہی رہے گا۔
انقلاب اور اندرونی تبدیلی
انقلاب محض حکومتوں کے بدلنے یا نظام کی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ یہ ذہن و فکر کی تبدیلی ہے۔ یہ تبدیلی اس وقت آتی ہے جب ہر فرد اپنے اندر اصلاح اور شعور پیدا کرتا ہے۔ قرآن کریم میں بھی یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ “اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے” (الرعد: 11)۔ یعنی انقلاب بیرونی نہیں بلکہ اندرونی تبدیلی سے جنم لیتا ہے۔
پاکستانی معاشرے کے تناظر میں
اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں تو یہی حقیقت ہمارے سامنے کھلتی ہے۔ تعلیم کے فقدان، جہالت، اندھی تقلید اور ذاتی مفادات نے عوام کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ اپنے مسائل کی اصل جڑ پہچاننے سے قاصر ہیں۔ کرپشن، ناانصافی، اور عدم مساوات کے خلاف بلند کی جانے والی آوازیں اکثر وقتی نعرے سمجھی جاتی ہیں۔ رہنما اپنی قربانیاں دیتے ہیں، مگر عوام کی اکثریت ابھی بھی جہالت کے اندھیرے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی انقلاب کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو پاتا۔
انقلاب کے تقاضے
حقیقی انقلاب کے لیے ضروری ہے کہ:
1. تعلیم عام ہو تاکہ ہر فرد سوچنے اور سمجھنے کے قابل ہو۔
2. فکری آزادی پیدا کی جائے تاکہ قوم اندھی تقلید کی بجائے سوال کرنے اور تحقیق کرنے کی عادت ڈالے۔
3. اخلاقی تربیت ہو تاکہ قوم صرف ذاتی مفاد کی بجائے اجتماعی بھلائی کو مقدم رکھے۔
4. قربانی کا جذبہ ہو تاکہ لوگ وقتی فائدے چھوڑ کر بڑی مقصدی جدوجہد میں شامل ہوں۔
ہماری ذمہ داری
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ انقلاب کسی ایک رہنما یا جماعت کے سہارے نہیں آتا بلکہ یہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم تعلیم کو عام کریں، اپنے اندر شعور پیدا کریں، اور اندھی تقلید سے نکل کر حقیقت کو پہچانیں، تو ہی کوئی رہنما ہماری قربانیوں کو روشنی میں بدل سکتا ہے۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ قربانیاں تو دی جاتی ہیں مگر اندھیروں میں ڈوبی قومیں ان روشنیوں کو دیکھنے سے قاصر رہتی ہیں۔
نتیجہ
اس جملے کی گہرائی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انقلاب لانے والا اپنی جان قربان کر کے بھی کامیاب نہیں ہو سکتا اگر قوم کے اندر شعور نہ ہو۔ اندھے کے لیے روشنی بے معنی ہے اور جاہل قوم کے لیے انقلاب بھی۔ لہٰذا اصل ضرورت یہ ہے کہ قوم اپنی آنکھیں کھولے، تعلیم اور شعور کو اپنائے، اور رہنماؤں کی قربانیوں کو ضائع نہ جانے دے۔ یہی راستہ حقیقی انقلاب اور پائیدار تبدیلی کا ہے۔