یورپی یونین اورافغان حکام کی برسلز میں ملاقات کے دوران افغان تارکینِ وطن کی واپسی پر بات چیت ہوگی

یورپی یونین نے افغان تارکینِ وطن کی واپسی کے معاملے پر افغان حکام کو برسلز میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے۔الجزیرہ کے مطابق بیلجیئم نے افغان وفد کے پانچ ارکان کو ایک روزہ ویزے جاری کیے ہیں۔ یہ ویزے سکیورٹی جائزے کے بعد جاری کیے گئے اور صرف بیلجیئم کے لیے ایک دن تک مؤثر ہوں گے۔

یورپی کمیشن کے مطابق، ملاقات کا مقصد افغانستان سے غیر قانونی طور پر یورپی یونین آنے والے افراد اور ان افغان شہریوں کی واپسی پر بات کرنا ہے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ افغان حکام سے یہ ملاقات افغانستان میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے مترادف نہیں۔

کمیشن کے ترجمان کے مطابق یورپی ممالک ایسے افراد کی واپسی کے راستے تلاش کر رہے ہیں جو سنگین جرائم میں ملوث رہے ہوں یا سکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہوں۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، اجلاس میں “یورپی یونین میں رہنے کا حق نہ رکھنے والے افغان شہریوں کی واپسی اور دوبارہ قبولیت” پر بات ہو گی۔

طالبان کے 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا جب یورپی یونین نے اس گروپ کے نمائندوں کو برسلز میں کسی اجلاس کی میزبانی کے لیے بلایا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے یورپی یونین کے اس اقدام پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ کسی بھی رابطے میں انسانی حقوق، احتساب اور افغان شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دی جانی چاہیے، نہ کہ لوگوں کو ایسے ملک واپس بھیجنا جہاں ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم محدود کر دی گئی، خواتین کی نقل و حرکت اور روزگار کے مواقع کم کیے گئے، جبکہ اظہارِ رائے پر بھی سختیاں بڑھ گئی ہیں۔

یورپی ممالک میں حالیہ برسوں میں پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن سے متعلق پالیسی سخت ہوتی جا رہی ہے۔ یورپی یونین کی مائیگریشن ایجنسی کے مطابق 2013 سے 2024 کے دوران افغان شہریوں کی تقریباً 10 لاکھ پناہ کی درخواستیں یورپی ممالک میں جمع ہوئیں۔

اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق، افغانستان اس وقت شدید انسانی بحران کا شکار ہے، جہاں ایک تہائی آبادی خوراک کے عدم تحفظ کا سامنا کر رہی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یورپی یونین کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان پہلے سے زیادہ خطرناک ہو چکا ہے، اس لیے لوگوں کو وہاں واپس بھیجنا ناقابلِ قبول ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں