ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور مکمل، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

“ہم امریکیوں کی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتے، بہتر ہے کہ وہ اپنے بیانات میں محتاط رہیں۔”

یہ ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کا امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان پر ردِعمل ہے، جس میں انہوں نے مذاکرات کے دوران ایران پر سخت حملوں کی دھمکی دی تھی۔ اس بیان کے باعث گزشتہ روز سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی براہِ راست بات چیت میں بھی تعطل پیدا ہوگیا تھا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان ایک 14 نکاتی معاہدہ سامنے آیا تھا، جس پر فریقین کے ساتھ ساتھ ثالث ممالک پاکستان اور قطر نے بھی دستخط کیے تھے۔ اس یادداشت کے تحت حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روز کی مدت مقرر کی گئی تھی۔

کل سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے براہِ راست مذاکرات میں مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں بات چیت کا محور جوہری پروگرام اور لبنان میں مستقل امن کا قیام تھا۔

تاہم پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق فریقین نے 60 روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔

فریقین نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر بھی اتفاق کیا ہے، جو مذاکراتی عمل کی سیاسی نگرانی کرے گی۔ اس کے علاوہ جوہری پروگرام، پابندیوں اور تنازعات کے حل سے متعلق ورکنگ گروپس بھی تشکیل دیے جائیں گے۔

مشترکہ بیان کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے اور کسی بھی غلط فہمی یا ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے فریقین کے درمیان ایک براہِ راست رابطہ نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق مفاہمت پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی رابطہ سیل بھی قائم کیا جائے گا، جس میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے گا۔

تکنیکی سطح کے مذاکرات ہفتہ بھر برگن اشٹاک میں جاری رہیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں