مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی دنیا کے لیے نئے خطرات پیدا کر سکتی ہے، چینی وزیراعظم لی چیانگ کا انتباہ

چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے چین کے شہر دالیان میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس “سمر ڈیووس” سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومتیں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی ضابطہ کاری میں سست روی کا شکار رہیں تو دنیا کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لی چیانگ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار غیر معمولی حد تک تیز ہو چکی ہے اور مصنوعی ذہانت نے جدت اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا ہے، تاہم اس کے ساتھ ٹیکنالوجی پر کنٹرول کھونے اور اخلاقی مسائل کے خطرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق اگر اس شعبے میں ضابطہ کاری ٹیکنالوجی کی رفتار کے ساتھ آگے نہ بڑھی تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

چینی وزیراعظم کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے باعث روزگار کی منڈی، سائبر سکیورٹی، جنگی استعمال، حساس معلومات کے تحفظ اور ممکنہ حیاتیاتی خطرات سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم کے شرکا نے بھی اس بات پر زور دیا کہ نئی ٹیکنالوجیز معاشی ترقی کا اہم ذریعہ بن سکتی ہیں، لیکن ان سے ملازمتوں کے خاتمے، عالمی سیاست میں کشیدگی اور سماجی ردعمل جیسے خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم کے نمائندے مرِک ڈوسیک نے اس موقع پر کہا کہ دنیا کو حالیہ عرصے میں بڑی تکنیکی پیش رفت حاصل ہوئی ہے، لیکن فیصلہ سازوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کو حقیقی معیشت کے لیے فائدہ مند کیسے بنایا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹیکنالوجی کے اثرات کو درست انداز میں نہ سنبھالا گیا تو ان کے خلاف عوامی ردعمل بھی سامنے آ سکتا ہے۔

اجلاس میں عالمی معیشت کو درپیش مشکلات پر بھی بات کی گئی۔ مقررین کے مطابق توانائی کے بحران، پیداوار اور سپلائی چین میں رکاوٹوں، جغرافیائی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے عالمی معاشی نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

چینی وزیراعظم لی چیانگ نے اپنے خطاب میں چین کی معیشت کو ایک غیر یقینی دنیا میں استحکام کا ذریعہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر متعدد جھٹکوں کے باوجود چین نے دنیا کو قیمتی معاشی یقین دہانی فراہم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین عالمی معیشت، پیداوار، سپلائی چین اور تکنیکی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھے گا، تاہم مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں ترقی کے ساتھ ذمہ دارانہ ضابطہ کاری بھی ناگزیر ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں